| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور: صوبائی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس
پاکستان میں اس سال بھی عیدالفطر دو مختلف دنوں میں منائے جانے کے امکانات اتوار کے روز سرحد حکومت کی جانب سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس سے ایک روز قبل صوبائی کمیٹی کے اجلاس بلائے جانے سے روشن ہوگئے ہیں۔ چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کے پشاور میں ایک اعلان کے مطابق صوبائی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس سوموار کی شام محکمہ اوقاف میں طلب کر لیا گیا ہے جو کہ شہادتوں کی بنیاد پر منگل یا بدھ کے روز عید الفطر کا تعین کرے گی۔ صوبائی وزیر برائے مذہبی امور حافظ اختر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ رمضان کے چاند کے تنازعے کے بعد صوبے سے مستعفی ہونے والے دو اراکین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا حسن جان اور شبیر کاکاخیل اور صوبائی رویت کمیٹی نے یہ اجلاس طلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اہلکاروں کو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے پیر کے روز اجلا س کرنے کی دعوت دی تھی۔ لیکن انہوں نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں مانے اور اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ ’ہم کیا کر سکتے ہیں انہوں نے تو اسے اپنی انا کا مسلہ بنا لیا ہے۔‘ گزشتہ برس ایم ایم اے کی حکومت کے قیام کے بعد کئی برسوں کے بعد ملک بھر میں عید ایک ہی روز منائی گئی تھی جس سے لوگوں میں یہ امید بڑھی تھی کہ شاید مذہبی جماعتوں کی حکومت کے رہنے تک یہ مسئلہ دوبارہ سر نہیں اٹھائے گا۔ لیکن اس سال آغاز رمضان پر حسب روایت صوبہ سرحد میں عوام تین حصوں میں بٹ گئی۔ مردان اور ہشتنگر کے کچھ علاقوں میں سب سے پہلے روزہ رکھا گیا تھا اور وہ لوگ اب عید کے موقعے پر بھی اگر سوموار نہیں تو منگل کے روز عید ضرور منائیں گے۔ جبکہ دوسری جماعت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے صوبائی حکومت کے کہنے پر مرکز سے ایک روز پہلے روزہ رکھا تھا۔ اب اگر سوموار کو شہادتیں ملتی ہیں تو انکی منگل کو عید ہوگی جس دن مرکزی رویت ہلال والے چاند دیکھنے کے لئے اکٹھے ہوں گے۔ اور اگر سوموار کو چاند نظر نہ آیا تو امکان ہے کہ بدھ کو اکٹھی عید ہو۔ لیکن اس کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔ اس سال صوبائی حکومت کے فیصلے سے ایک مرتبہ پھر ملک میں دو مختلف دنوں میں عید منائے جانے کے امکانات بڑھے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||