BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 October, 2004, 17:09 GMT 22:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رویت ہلال کمیٹی اور سنیما و کیبل

سرحد اسمبلی
قراردادیں اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود منظور کی گئیں
پاکستان کے صوبہ سرحد کی اسمبلی نے آج ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے رویت ہلال کمیٹی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایوان نے ماہ رمضان میں سنیما گھروں اور کیبل پر پابندی کی ایک قرار داد بھی کثرت رائے سے منظور کر لی۔

ماہ رمضان کی آمد میں تو ابھی چند روز باقی ہیں لیکن سرحد اسمبلی نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے خلاف قرار داد منظور کرکے بظاہر یہ تنازعہ ایک مرتبہ پھر چھیڑ دیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما بشیر احمد بلور کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد میں مرکزی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو ختم کرکے سال کے تمام اسلامی مہینوں، بالخصوص رمضان، شوال اور عیدالضحی کا اعلان سعودی حکومت کے ساتھ کیا جائے تاکہ تمام عوام میں اتفاق اور اتحاد قائم ہوسکے۔

قرار داد پیش ہوئی تو صوبائی وزیر اوقاف اور مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی نے اس میں ایک ترمیم کی تجویز پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں سعودی کیلنڈر کو اپنانے کا فیصلہ نہیں ہوتا مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو چاند رات کے موقعہ پر کم از کم نصف شب تک بیٹھنے کا پابند بنایا جائے۔

قرار داد ترمیم کے ساتھ اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔

گزشتہ برس صوبائی حکومت اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے درمیان رمضان کا چاند دیکھنے سے متعلق تنازعہ پیدا ہوا تھا جس نے بعد میں کافی تلخ صورت اختیار کرلی تھی۔

چھ دینی جماعتوں کے حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رکن ڈاکٹر محمد ذاکر شاہ کی ایک قرار داد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی کہ رمضان کے مقدس مہینے کے دوران صوبے کے تمام سنیما گھروں اور کیبل کو بند کیا جائے۔

حزب اختلاف کے اراکین نے اس قرار داد کی مخالفت کی اور کہا کہ اسلام میں اس ماہ میں سنیما جانے یا کیبل دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔

ایم ایم اے کی خاتون رکن شگفتہ ناز کے کہنے پر اس ماہ کے دوران الیکٹرانک میڈیا پر موسیقی کے پروگرام بھی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ قرار داد بھی حکمراں اتحاد نے حزب اختلاف کی مخالفت کے باوجود کثرت رائے سے منظور کر لی۔

صوبے میں پہلے ہی ماہ رمضان کے دوران سنیما گھروں میں دن میں تین کی بجائے صرف دو شو دیکھائے جاتے ہیں۔

آج کے طویل اجلاس کے آخر میں پیش ہونے کی وجہ سے ان قرار دادوں پر ذیادہ بحث نہیں ہوسکی۔

رویت ہلال اور کیبل سے متعلق قرار دادوں کا تعلق مرکز سے ہے لہذا ان پر عمل درآمد کا انحصار بھی وفاقی حکومت پر ہی ہے۔ جہاں تک سنیما گھروں کا سوال ہے وہ ضلعی حکومتوں کے کنٹرول میں ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ صوبائی حکومت ان پر کتنا اثر انداز ہوسکتی ہے۔ البتہ مبصرین کے خیال میں اس سے حکمراں اتحاد کی خواہشات کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد