| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد کی روایت برقرار
صوبہ سرحد میں دو عیدوں کی روایت اس برس بھی برقرار رہی اور صوبائی حکومت کے کہنے پر منگل کے روز عید منائی گئی۔ البتہ ملک کے دیگر حصوں میں عید مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کی مطابق بدھ کو منائی جائے گی۔ صوبائی دارلحکومت پشاور سمیت صوبے کے اکثر اضلاع میں عیدگاہوں اور مساجد میں نماز عید کے اجتماعات منعقد ہوئے۔ وزیر اعلی سرحد اکرم خان دورانی نے اپنے آبائی علاقے بنوں میں جبکہ سینیر وزیر سراج الحق نے دیر میں نماز عید ادا کی۔ التبہ مرکز کے نمائندہ صوبائی گورنر لیفٹنٹ جنرل (ر) سید افتخار حسین شاہ نے صوبائی کے ساتھ نہیں بلکہ مرکز کے ساتھ کل یعنی بروز بدھ کوہاٹ میں عید منائیں گے۔ عوام نے بڑی تعداد میں تفریحی مقامات اور میلوں کا رخ کیا۔ جبکہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی عام رہا اور لوگوں نے موبائل فونز پر تحریری پیعامات کے ذریعے بھی عید یا روزے کی بارے میں اپنے جاننے والوں سے معلومات حاصل کیں اور عید ہونے کی تصدیق ہونے پر مبارک باد کے تبادلے کیے۔ بنکوں اور وفاقی اداروں کے ملازمین کو حکومت نے عید کی چھٹیاں کیں کہ چھبیس تاریخ سے دیں تھیں لہذا انہیں آج دفاتر میں علامتی ہی سہی حاضری ضرور دینی پڑی۔ اس مرتبہ بھی پشاور میں عید منقسم تھی اور لوگ ملنے سے پہلے پوچھتے رہے کہ عید ہے یا روزہ۔ چاند دیکھنے کا متنازعہ معاملہ زیر بحث رہا اور ہر کوئی اپنی دانست کے مطابق رائے دیتا رہا۔ کچھ لوگوں نے خصوصی طور پر شام کو چاند دیکھنے کا اہتمام کیا تاکہ فیصلہ کرسکیں کہ عید درست تھی یا نہیں۔ واضع رہے کہ چاند دیکھ کر اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے انتہائی جلد فیصلے کے سامنے آنے کو سرحد میں عید منانے والوں نے ان کے فیصلے کے درست ہونے کی دلیل کے طور پر لیا۔
کچھ لوگوں کے خیال میں رویت ہلال کمیٹی ناکام ہوچکی ہے اور اس نظام کو ہی تبدیل کیا جانا چاہیے جبکہ اس کے حامی اس کا دفاع کر تے رہے۔ چند لوگوں کے خیال میں مسئلہ رویت سے بڑھ کر ذاتی انّا کا بن کر رہ گیا تھا جس پر افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ بظاہر حکومت بھی اس میں بے بس نظر آتی ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ عیدیں آتی رہیں گی لیکن یہ تنازعہ اپنی جگہ موجود رہے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||