پاکستان: مذمت نہیں افسوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نعیم خان نے پیر کو ہفتہ وار بریفنگ کے موقع پر حال ہی میں غزہ کی پٹی میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت نہیں کی بلکہ افسوس ظاہر کیا۔ فلسطینی علاقوں میں تشدد کی ماضی میں پاکستان سختی سے مذمت کرتا رہا ہے لیکن پاکستان اور اسرائیل کے وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان نے فلسطینیوں کے خلاف کسی تشدد کے واقعہ کی مذمت نہیں کی اور اسرائیل کے خلاف خاصی نرمی اختیار کی ہے۔ بریفنگ میں صحافیوں نے غزہ میں ہونے والے حالیہ بم دھماکے اور اسرائیل سے تعلقات کے بارے میں ترجمان پر سوالات کی بوچھاڑ کی لیکن نعیم خان بولتے وقت مکمل محتاط نظر آئے۔ ’کیا آپ اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں؟ جیسے سوالات کئی صحافیوں نے کیے لیکن ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان ہر قسم کے تشدد کا مخالف ہے اور سمجھتا ہے کہ ایسے واقعات امن کے قیام کی کوششوں کے مفاد میں نہیں‘۔ جب ترجمان نے کہا کے اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پرانی پالیسی جاری رہے گی اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک انہیں تسلیم نہیں کریں گے تو کئی صحافیوں نے ایک ہی وقت کہا کہ ’ اسرائیل کے متعلق آپ کی پالیسی میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے‘۔ بھارت کے ساتھ جب سے پاکستان کے جامع مذاکرات شروع ہوئے ہیں اس وقت سے ان کے بارے میں بات کرتے وقت پاکستانی حکام نے پہلے ہی محتاط رویہ اختیا کر رکھا ہے۔ اور اس کی تازہ جھلک پیر کو بریفنگ کے دوران اس وقت دیکھنے میں آئی جب ترجمان حال ہی میں بھارتی جیلوں سے رہائی پا کر پاکستان آنے والے قیدیوں پر ذہنی تشدد کی خبروں پر تبصرہ کر رہے تھے۔ ترجمان نے اس معاملے پر کہا کہ ’یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور پاکستان ہر فورم پر اٹھائے گا‘۔ ترجمان نے اسے دردناک اور افسوسناک قرار دیا لیکن مذمت نہیں کی۔ ترجمان نے کہا کہ ایک طرف عوامی رابطے بڑھانے کی بات ہورہی اور دوسری طرف غلطی سے سرحد عبور کرنے جیسے معمولی جرائم کے تحت پکڑے جانے والوں پر اتنا تشدد کیا جاتا ہے کہ وہ حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بدقسمتی ہے کہ ایسا ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق چالیس کے قریب قیدیوں کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے اور اس کی وجہ قید کے دوران ان پر ہونے والا مبینہ تشدد بتایا جاتا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ تین اکتوبر کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گے اور جامع مذاکرات کا جائزہ لے کر آئندہ مرحلے کی بات چیت کے شیڈول کی منظوری بھی دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا نو رکنی وفد دلی روانہ ہوگیا ہے اور جو ستائیس سے اٹھائیس ستمبر کو ننکانہ صاحب سے امرتسر تک بس سروس شروع کرنے کے لیے بات چیت کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||