قرآن سے شادی، دس سے پچیس سال سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ کی خاتون رکن اسمبلی مہناز رفیع نے بتایا ہے کہ خواتین کی قرآن سے شادی پر پابندی عائد کرنے کے لیے تیار کردہ بل میں دس سے پچیس برس قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ بدھ کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے متعارف کردہ اس بل کی حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین حمایت کر رہے ہیں اور بہت جلد یہ قانون منظور کرایا جائے گا۔ مہناز رفیع نے بتایا کہ وہ قومی اسمبلی کی خواتین کی ترقی کے بارے میں وزارت کی قائمہ کمیٹی کا چند روز میں اجلاس بلائیں گی اور اس بل کے بارے میں رپورٹ کی منظوری لے کر ایوان میں پیش کریں گی۔ قرآن سے شادی پر پابندی کا یہ بل منگل کی شام کو قومی اسمبلی میں نجی کارروائی کے دن کے موقع پر پیش کیا گیا جس کی حکومت نے مخالفت نہیں کی تھی اور سپیکر نے یہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کی منظوری دی تھی۔ مہناز رفیع کا دعویٰ ہے کہ صوبہ سندھ کے بعض علاقوں اور پنجاب کے جنوبی علاقوں میں بڑے زمیندار اپنی زمین اور جائیداد کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے خاندان میں لڑکوں کی عدم دستیابی کی صورت میں اپنی بچیوں کی قرآن سے شادی کراتے ہیں۔ تاہم وہ کوئی بھی ایک مثال اس ضمن میں پیش نہیں کر پائیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ یہ خاندان کے اندر ہوتا ہے اور اس طرح کی خبریں بہت کم باہر نکلتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کے ان کے مجوزہ بل میں قرآن سے شادی کرانے کے مرتکب افراد کو پچیس برس تک قید کی سزا ملے گی۔ بل کے مطابق یہ سزا کسی طور پر بھی دس برس سے کم نہیں ہوگی۔ جبکہ پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ بل کی ایک شق میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی شادی میں شرکت کرنے والوں کو شادی کرانے والوں کے لیے تجویز کردہ سزا کا نصف جرمانہ اور قید ہوگا۔ مہناز رفیع نے بتایا کہ وہ جلد ہی ’سٹیزن شپ ایکٹ، میں ترامیم کا بل دوبارہ قومی اسبلی میں پیش کریں گی۔ ان کے مطابق پاکستان کے موجودہ مروجہ متعلقہ قانون کے تحت غیر ملکی خاتون سے پاکستانی مرد کی شادی کی صورت میں خاتون کو شہریت مل جاتی ہے۔ لیکن اگر پاکستانی خاتون کسی غیر ملکی مرد سے شادی کرے تو ان کے شوہر کی شہریت نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پابندی آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق آٹھ ماہ قبل جب انہوں نے اس بارے میں بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا تو حکومت نے کہا تھا کہ وہ خود اس ضمن میں جلد قانون سازی کے لیے بل پیش کرے گی۔ لیکن مہناز رفیع کا کہنا ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی حکومت نے بل پیش نہیں کیا اور اب وہ خود دوبارہ اپنا بل پیش کریں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||