پاک بھارت: جامع مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کےدرمیان تعلقات کومعمول پرلانے کے لیے جامع مذا کرات میں اب تک کی بات چیت میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے بھارت کے خارجہ سیکریٹری شیام سرن تین روزہ دورے پر بدھ کواسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ جمعرات کوشروع ہونے والی باضابطہ بات چیت میں دونوں ممالک کے حکام کے مطابق خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پرجہاں مسئلہ کشمیر، سیاچن، سرکریک اور اعتماد کی بحالی کے لیےاقدامات سمیت آٹھ نکات پر ہونے والی بات چیت کا جائزہ لیا جائے گا وہاں ان مذاکرات کوآگے بڑھانے کے لیےحکمت عملی پر بھی غور ہوگا۔ خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر جائزہ لینے کے بعد ان کی سفارشات کی روشنی میں دونوں ممالک کے وزراء خارجہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں طے شدہ ملاقات میں فیصلہ کریں گے۔ دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات میں خیال کیا جارہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان اس وقت ملاقات ہورہی جب دونوں ممالک کے داخلہ سیکریٹریوں کے درمیان محض دو روز قبل دلی میں ایک دوسرے کےغیرفوجی قیدی اور مچھیرے بارہ ستمبر تک رہا کرنے پر اتفاق ہوچکا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے بارے میں ہونے والی اس مثبت پیش رفت کے بعد خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں بھی مزید پیش رفت کی توقعات کی جاسکتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||