’بیرون ملک مقیم احتیاط کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت نے لاعلاج مرض ایڈز سے متعلق متحدہ عرب امارات میں مقیم صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کے افراد میں اس بیماری سے بچاؤ کی آگاہی پھیلانے کی خاطر ایک خصوصی ورکشاپ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات صوبہ سرحد میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر محمد ظفر نے پشاور میں صحافیوں سے بات چیت میں بتائی۔ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں ایڈز کے اکثر مریض متحدہ عرب امارات یا دیگر خلیجی ممالک سے واپس لوٹنے والے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد کا اپنے خاندان سے دور ملازمت کے لئے برسوں رہنا بتائی جاتی ہے۔ صوبہ میں بہت سے کیس ایسے بھی پائے گئے ہیں جن میں یہ ایڈز سے متاثرہ لوگ یہ مرض اپنی بیوی کو منتقل کر دیتے ہیں۔ یہ ورکشاپ اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف کے تعاون سے منعقد کی جائے گی جس میں ان افراد کو ایڈز سے بچاؤ کی تدابیر سے آگاہ کیا جائے گا۔ صوبہ سرحد میں اب تک سرکاری اعداوشمار کے مطابق چار سو کے لگ بھگ ایذز یا ایچ آئی وی پازٹو کے مریض موجود ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||