BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 June, 2005, 16:29 GMT 21:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایم کیو ایم مجھے قتل کرنا چاہتی ہے‘

قاضی حسین احمد
قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ اسلام آْباد کے ایک مزار اور کراچی کی امام بارگاہ پر ہونے والے بم حملوں میں ملوث ہیں۔
پاکستان میں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ قاضی حسین احمد نے اپنی مخالف سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پر الزام لگایا ہے کہ وہ انہیں قتل کرنا چاہتی ہے۔

جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کراچی کے ہوائی اڈے پر جو گاڑی انہیں چھوڑ کر واپس جارہی تھی اسے ’ایم کیو ایم‘ والوں نے جلا کر انہیں قتل کرنے کا پیغام دیا ہے۔

واضح رہے کہ ’ایم کیو ایم‘ کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ان کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے رہے ہیں اور جماعت اسلامی پر جوابی الزام بھی لگاتے رہے ہیں۔

قاضی حسین احمد نے حال ہی میں قتل ہونے والے اپنی جماعت کے کچھ رہنماؤں کے نام لیے اور کہا کہ انہیں بھی ’ایم کیو ایم‘ نے قتل کیا ہے۔

چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ نے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ اسلام آْباد کے ایک مزار اور کراچی کی امام بارگاہ پر ہونے والے بم حملوں میں ملوث ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس بنیاد پر خفیہ ایجنسیوں پر یہ الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ حالات صاف ظاہر ہے۔

قاضی حسین احمد نے بری امام کی درگاہ پر ہونے والے دھماکے میں حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی مبینہ خود کش بمبار کی تصویر ایک بیگناہ اور مسکین عزادار کی ہے۔

انہوں نے فوجی جرنیلوں پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ اب تو کچھ جرنیل ’پراپرٹی ڈیلر‘ بھی بن گئے ہیں۔ ان کے مطابق چند ہفتے قبل کراچی سٹاک ایکسچینج میں مصنوعی چڑھاؤ کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ اس میں بھی کچھ جرنیل ملوث ہیں۔

قاضی نے کہا کہ کراچی سٹاک ایکسچینج میں غریب اور متوسط طبقے کے اربوں روپوں ڈوب گئے اور یہ بھاری رقم اب جرنیلوں کی جیب میں چلی گئی ہے۔

پریس کانفرنس میں قاضی حسین احمد نے حریت رہنماؤں کی پاکستان آمد کے حوالے سے کہا کہ اس وفد کی وہ حیثیت نہیں جو اہم رہنما علی شاہ گیلانی کے وفد میں شامل ہونے سے ہوتی۔ انہوں نے بتایا کہ علی شاہ گیلانی کے نہ آنے کی وجہ سے ہی حکومت نے مہمان وفد کو وہ ’پروٹوکول‘ نہیں دیا جو دیا جانا تھا۔

متحدہ مجلس عمل کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن سے اپنے اختلافات کے بارے میں بات کرنے سے انہوں نے گریز کیا اور کہا کہ مجلس عمل کے اجلاس میں معاملات طے پاجائیں گے اور ان کا اتحاد برقرار رہے گا۔

واضح رہے کہ چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے ایک رہنما مولانا سمیع الحق پہلے ہی قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن کے فیصلوں سے اختلاف کرچکے ہیں لیکن ان دنوں صدر جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں قائم قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے سوال پر اتحاد کے صدر اور سیکریٹری جنرل میں بھی کھل کر اختلافات سامنے آچکے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن آٹھ جون کو صدر مملکت کی جانب سے کونسل کے اجلاس میں شرکت کے حامی ہیں جبکہ قاضی حسین احمد سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے اتحاد کے رہنماؤں کو ایک خط لکھا ہے جس میں دھمکی دی ہے کہ اگر سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی گئی تو وہ اتحاد کی سربراہی سے مستعفی ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد