’جماعت اسلامی گمراہ کر رہی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر تعلیم جنرل اشرف جاوید قاضی نے کہا ہے کہ آغا خان ایجوکیشنل بورڈ قائم رہے گا اور حکومت کسی کے دباؤ میں اس فیصلے میں ترمیم نہیں کرے گی۔ انہوں نے اسلامی جمیعت طلباء اور جماعت اسلامی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کو اس مسئلے پر گمراہ کر رہے ہیں اور اب جب وردی کا مسئلہ چل نہیں سکا تو یہ سیاسی تنظیمیں وہ مسئلہ کھڑا کر رہی ہیں جس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ اسلامی جمیعت طلباء اور جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ آغا خان بورڈ کو امتحانوں کا انچارج بنا کر قومی اور دینی مفادات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ جنرل قاضی نے کہا کہ انہوں نے امریکییوں کے مذہبی مدرسوں کے بارے میں پائے جانے والے غلط تاثر کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ورلڈ بینک کے ایک تازہ ترین سروے کا بھی حوالہ دیا جس کے مطابق پاکستان میں مذہبی مدرسوں کی تعداد آٹھ ہزار ہے اور ان میں ایک فیصد سے بھی کم پاکستانی بچے زیر تعلیم ہیں۔ ان کا دعوی تھا کہ ان کو بالکل علم نہیں ہے کہ امریکی پاکستان میں کس طرح کی تعلیمی اصلاحات چاہتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ کانڈو لیزا رائس کے اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان کا کیا مقصدتھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان کی تعلیمی اصلاحات میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو امریکیوں نے کسی قسم کی ہدایات نہیں دیں سوائے اس کے ان کا تصور ہے کہ پاکستان میں مذہبی مدرسوں کا بہت اثر ورسوخ ہے۔ آغا خان ایجوکیشنل بورڈ کے معاملے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا واحد مقصد طلباء کا عالمی سطح کے معینار کے مطابق امتحان لینا ہے جیسا کہ برطانوی ادارے او اور اے سطح کے امتحانات لیتے ہیں۔ آغا خان بورڈ کے یہ امتحانات موجودہ قومی سلیبس کی بنیاد پر ہی ہوں گے اور بورڈ باہر سے کچھ بھی امتحانوں میں شامل نہیں کر سکتا۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو آزادی ہے کہ وہ آغا خان بورڈ کے ساتھ وابستگی قائم کریں یانہ کریں اور گورنمنٹ سکولوں کا فیصلہ صوبائی حکومتوں کی صوابدید پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے کہ پاکستانی ڈگریوں کی عزت بحال کی جائے کیونکہ اسی وجہ سے ہاکستان کے بہت سے طلباء و طالبات او اور اے لیول کے برطانوی امتحان دیتے ہیں۔ ان امتحانوں کی فیس چوبیس ہزار روپے کے قریب ہے جو کہ عام طالب علم کی دسترس سے باہر ہے۔حکومت نے تمام بورڈوں کو دعوت دی تھی کہ وہ اس کے لئے مقابلہ میں حصہ لیں لیکن صرف آغاخان اور عسکری بورڈ نے یہ ذمہ داری قبول کی ہے۔انہوں نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ آغا خان بورڈ نے صحت کے عالمی ادارے کے ایڈز کے سے متعلقہ سوالنامہ تقسیم کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||