رستے بند کرنے پر تحاریکِ استحقاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کے سپیکر نے فوجی پریڈ کی وجہ سے پارلیمان کی طرف آنے والے تمام راستے بند کرنے کے خلاف حزب مخالف کے اراکین کی تحاریک استحقاق حکومت کی جانب سے مخالفت نہ کرنے پر ایوان کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر اور متحدہ مجلس عمل کے فرید احمد پراچہ نے دو ایک جیسی تحاریک استحقاق پیش کرتے ہوئے کہا کہ یوم پاکستان کے سلسلے میں فوجی پریڈ کی ریہرسل کے موقع پر پندرہ مارچ کو پارلیمان کی طرف آنے والے تمام راستے بند کیے گئے اور ارکین کی اجلاس میں شرکت میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ ان کے مطابق ایسا کرنے سے ان کا استحقاق مجروح ہوا ہے لہٰذا ان کی تحاریک منظور کی جائیں۔ حزب مخالف کے اراکین نے جیسے ہی تحاریک پیش کیں تو حکمران مسلم لیگ کے رکن ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ وہ بھی اس کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں بھی اس میں شامل کیا جائے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی نے تحریک کی مخالفت نہیں کی البتہ وضاحت کی کہ فوجی پریڈ، یوم پاکستان کے سلسلے میں ہوتی ہے اور اس پہلو کو بھی نظر میں رکھا جائے۔ جس پر حزب مخالف کے کئی اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یوم پاکستان کا سب کو احساس ہے لیکن اراکین کو روکنا ایک علیحدہ مسئلہ ہے، جسے اس کے ساتھ نہ ملایا جائے۔ حزب اختلاف کے رکن اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان فوج نے نہیں بلکہ سیاستدانوں نے بنایا تھا اور وہ ہی فوجی جو تیرہ اگست تک انگریزوں کے جھنڈے کو سلام کر رہی تھی اس نے چودہ اگست کو پاکستان کے پرچم کو ’سیلوٹ، کیا تھا۔ حکومتی رکن ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ پندرہ مارچ کو پریڈ کی ریہرسل کے موقع پر راستے بند ہونے کی وجہ سے جہاں ارکانِ پارلیمان اجلاس میں نہیں پہنچ پائے وہاں کئی غریب بچے امتحانات نہیں دے سکے اور سکول نہیں پہنچ پائے۔ واضح رہے کہ تئیس مارچ کو ہر سال یوم پاکستان کے سلسلے میں فوجی پریڈ ہوتی ہے اور اس کی تیاری ایک مہینہ پہلے شروع ہوتی ہے۔ اس دوران فوج، نیم فوجی اداروں اور اور پولیس کے دستے پریڈ سے پہلے اس کی ’فل ڈریس ریہرسل، کرتے ہیں اور اسی سلسلے جب پندرہ مارچ کو ایسا کیا گیا تو شہر کی مرکزی شاہراہ ’جناح ایوینیو، بند کردی گئی تھی۔ ماضی میں تو ہر سال یہ پریڈ ہوتی تھی لیکن گزشتہ چند برسوں سے مختلف وجوہات کی بنا پر یہ پریڈ نہیں کی جارہی تھی۔ ابتدا میں ’کارگل جنگ، اور اس کے بعد بھارت کے ساتھ سرحدوں پر کشیدگی کی وجہ سے پریڈ نہیں کی گئی لیکن ایک دو بار بارشوں کی وجہ سے بھی اسے ملتوی کرنا پڑا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||