وزیرستان: دو مبینہ غیر ملکی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے ایک سرحدی گاؤں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں دو افراد جن پر شک ہے کہ وہ غیرملکی ہیں، ہلاک جبکہ گیارہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں میں بھی اکثریت غیرملکیوں کی بتائی جاتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کل نصف شب سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے مغرب میں سرحدی گاؤں دیوگر سیدگی میں ایک مٹی کے مکان کا گھیراؤ کیا جہاں انہیں شبہ تھا کہ غیرملکی چھپے ہوئے ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق یہ کارروائی مخبری کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ اس کے بعد تقریباً دو گھنٹوں سے زیادہ وقت تک فریقین میں گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ اس جھڑپ میں دو افراد جو ابتدائی اطلاعات کے مطابق غیرملکی معلوم ہوتے ہیں ہلاک ہوئے۔ بعد میں اس مکان سے گیارہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا جن میں حکام کے مطابق اکثریت غیرملکیوں کی معلوم ہوتی ہے۔ تاہم ان کی شناخت کے بارے میں اطلاعات واضع نہیں ہیں۔ ان افراد کو مزید پوچھ گچھ کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ ہلاک یا گرفتار ہونے والوں کا تعلق القاعدہ سے تھا کہ نہیں لیکن فوجی ترجمان نے ان کے لیے دہشت گرد کا لفظ استعمال کیا ہے۔ گزشتہ برس پاکستانی سیکورٹی دستوں نے جنوبی وزیرستان کے علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ ارکان کے خلاف کارروائیوں میں سینکڑوں افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ گورنر سرحد سمیت کئی اعلی سرکاری اہلکار گزشتہ دنوں کہہ چکے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مشتبہ افراد نے جنوبی وزیرستان میں کارروائیوں سے بچنے کی خاطر شمالی وزیرستان میں پناہ لے لی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||