وانا آپریشن، وکلاء احتجاج کریں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک بھر کی وکلاء تنظیموں کے نمائندوں نے ہفتے کو لاہور میں اعلان کیا کہ جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کے خلاف احتجاج کے لیے ملک بھر کے وکلاء چھبیس مارچ کو بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنوں کے دفاتر میں احتجاجی جلسے منعقد کریں گے۔ ہفتے کو لاہور میں پاکستان بار کونسل کے زیراہتمام ملک بھر کے وکلاء کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے سے پہلے کے آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے لیے وکلاء کی جائنٹ ایکشن کمیٹی کو نیا مینڈیٹ دیا گیا۔ کانفرنس کی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ وکلاء وزیرستان کے آپریشن اور اس میں معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف یہ کارروائی امریکہ اور صدر بش کے دباؤ پر کرہے ہیں اور اس کا مقصد اپنے غیر آئینی اقتدار کو جاری رکھنا ہے۔ اس کنونشن نے جو قراردادیں منظور کی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد اویس انیس سو تہتر کے آئین کو توڑنے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے دس روز میں ایک ورکنگ پیپر تیار کریں جس پر جائنٹ ایکش کمیٹی سترہ اپریل کے اجلاس میں غور کرے گی۔ وکلاء کی اس کانفرنس نے سترہویں آئینی ترمیم کو مسترد کرنے کا اعلان کیا اور اس کی متعدد وجوہات بیان کیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ یہ ترمیم جنرل پرویز مشرف کو صدر تسلیم کرتی ہے اور ان کے ریفرنڈم کو تسلیم کرتی ہے جو آئین کی روح کے خلاف ہے۔ وکلاء کی قومی کانفرنس نے ایک قرارداد میں متحدہ مجلس عمل کے سترہویں ترمیم کی حمایت پر اس کی بھی مذمت کی۔ کانفرنس نے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی خالی آسامیوں پر ججوں کے تقرر نہ کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ تقرریاں نہ کرنا سپریم کورٹ کے مشہور ’ججز کیس‘ کے فیصلہ کے خلاف ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||