| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء کے دفاتر مسمار
لاہور ہائی کورٹ نے عدالت کی عمارت سے متصل متنازعہ جگہ کو قابضین سے خالی کرانے کے لیے عدالت عالیہ کی عمارت سے متصل متعدد مکانات اور وکلاء کے دفاتر بلڈوزروں سے مسمار کروا دیے ہیں۔ اتوار کے روز نصف شب کے بعد ایک بجے کے قریب پولیس کی بھاری نفری نے لاہور کے ایس ایس پی آپریشنز آفتاب چیمہ کی نگرانی میں متنازعہ جگہ کی ناکہ بندی کرلی اور تین بڑے بڑے بلڈوزروں نے ہائی کورٹ کی عمارت سے متصل پندرہ فین روڈ پر پچاس سال سے زیادہ عرصہ سے مقیم افراد کے مکانات اور دفاتر کو گرادیا۔ وکلاء نے ہنگامی حالات میں اپنے کاغذات وہاں سے نکال لئے ہیں۔ لاہور میں ہائی کورٹ کی عمارت کے پیچھے فین روڈ پر متروکہ وقف املاک کے اثاثے پر قیام پاکستان کے وقت سے بیس سے زیادہ خاندان آباد تھے اور انیس سو چوہتر سے کئی وکلاء نے اس جگہ پر چالیس سے زیادہ دفاتر تعمیر کر لیے تھے۔ یہ سب لوگ متروکہ وقف املاک بورڈ کے کراۓ دار تھے۔ ایک مکین وکیل اشرف چودھری نے بتایا کہ انیس سو پچانوے میں متروکہ وقف املاک بورڈ نے اس جگہ کو خاموشی سے لاہور ہائی کورٹ کے ہاتھوں بیچ دیا تھا جبکہ قانون کے مطابق پرانے قابضین اس جگہ کو خریدنے کے زیادہ حق دار تھے۔ اس سال مارچ میں ہائی کورٹ نے ان افراد کو نوٹس جاری کئے تھے کہ وہ یہ جگہ خالی کردیں اور مکانات میں مقیم کئی خاندان اس یقین دہانی پر جگہ چھوڑ کر چلے گۓ کہ انہیں متبادل جگہ دی جاۓ گی۔ تاہم وکلاء نے یہ جگہ خالی نہیں کی۔ اس جگہ جن وکلا کے دفاتر تھے انھوں نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی کہ انھیں اس جگہ سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا لیکن سپریم کورٹ نے انھیں دس روز کے اندر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے کہا۔ لاہور ہائی کورٹ کا دفتر وکلاء کی رٹ درخواست پر اعتراض لگا کر اسے ناقابل سماعت قرار دیتا رہا اور جمعہ کے روز لاہور کی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے خود اس مقدمہ کی سماعت کی۔ تاہم وکلاء نے ان سے کہا کہ چونکہ لاہور ہائی کورٹ اس مقدمہ میں ایک فریق ہے اس لیے انھیں ان پر اعتماد نہیں اور وہ اس مقدمہ کی سماعت کسی دوسری صوبہ کی ہائی کورٹ میں منتقل کروانا چاہتے ہیں۔ ہفتہ کے روز ان وکلاء نے سپریم کورٹ میں مقدمہ کی کسی دوسرے صوبے کی ہائی کورٹ میں منتقلی کے لیے درخواست دی تھی لیکن شام کے وقت ان کو دفاتر خالی کرنے کے نوٹس جاری ہوگۓ اور یہ بات پھیل گئی کہ رات کے وقت ان مکانات اور دفاتر کو گرادیا جاۓ گا۔ اس پر وکلاء نے شام کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شیخ ریاض سے ملاقات کی اور انھیں ہائی کورٹ کو اس اقدام سے باز رکھنے کے لیے درخواست کی۔ اس جگہ کے ایک قابض وکیل خاور اکرام بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے وکلا کو کہا تھا کہ وہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کہیں گے کہ وہ رات کو کوئی کاروائی نہ کروائیں اور اتوار کی صبح کو حکم امتناعی جاری کردیں گے لیکن اس کے باوجود دفاتر کو گرادیا گیا۔ چودھری اشرف ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اگلے روز صبح کو اس معاملہ کو دیکھیں گے لیکن رات کو نصف شب کے بعد ہائی کورٹ کے حکم پر پولیس نے دفاتر خالی کرانے کے لیے کاروائی کا آغاز کردیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||