BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 February, 2004, 07:33 GMT 12:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات شروع ہو گئے
پاکستان اور بھارت کے جھنڈے
امن کی طرف آہستہ آہستہ بڑھا جائے گا
پاکستان اور بھارت کے درمیان تین سال میں ہونے والے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہو گئے ہیں۔

ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دیر پا امن کا قیام ہے۔ جوہری اسلحہ سے مسلحہ دونوں پڑوسی ممالک کشمیر کے تنازعہ پر دو بار جنگ کر چکے ہیں۔

تین سال قبل بھارت کے شہر آگرہ میں دونوں ممالک کے درمیان بڑی امیدوں کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات بدمذگی پر ختم ہوئے تھے۔

پیر کو اسلام آباد میں ابتدائی طور پر جوائنٹ سیکریٹریز کی سطح پر دونوں جانب کے حکام آپس میں بات چیت کے ذریعے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔

یہ بات چیت بدھ کے روز اعلیٰ حکام کی سطح پر پہنچ جائے گی۔ مبصرین بات چیت کے اس سلسلے کے بارے میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور وقت سے پہلے بڑی بڑی توقعات قائم نہیں کرنا چاہ رہے۔

اس بات چیت کا آغاز گزشتہ سال اپریل میں بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی طرف سے دوستی کی پیش کش کے بعد ہوا تھا۔

بھارت کا وفد سڑک کے راستے واہگہ سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری ارون کمار سنگھ کی سربراہی میں آنے والے وفد میں انڈر سیکرٹری دیپک متل بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے اس سے پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پیر سے منگل تک جوائنٹ سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات ہوں گے اور بدھ اٹھارہ فروری کو خارجہ سیکرٹریز کی سطح پر مذاکرات ہونگے۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ ششانک بھی منگل کی شام پاکستان پہنچیں گے۔

مسعود خان نے کہا تھا کہ پاکستان کے وفد کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل برائے جنوبی ایشیائی امور جلیل عباس جیلانی کریں گے۔

واضع رہے کہ جلیل عباس جیلانی بھارت میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر بھی رہ چکے ہیں اور انہیں بھارت بدر بھی کیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ جنوری کے پہلے ہفتے میں سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم اٹل بھاری واجپئی اور صدر جنرل مشرف میں ہونے والی ملاقات کے دوران کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور پر فروری میں جامع مذاکرات کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

مذاکرات کی کوریج کیلئے بھارتی سرکاری ٹی وی دور درشن کے علاوہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے درجن بھر نمائندگان بھی بھارت سے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کے حوالے سے ایجنڈا مرتب کیا جائے گا کہ کن معاملات پر کس سطح پر کہاں اور کب مذاکرات ہوں۔

سہ روزہ مذاکرات کے آخری دن یعنی بدھ اٹھارہ فروری کو مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد