’وزیراعظم کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے‘

ٹی او آرز میں شامل چار سوالات کے جوابات نہ دیے گئے تو وہ عید کے بعد رائے وینڈ کا رخ کریں گے
،تصویر کا کیپشنٹی او آرز میں شامل چار سوالات کے جوابات نہ دیے گئے تو وہ عید کے بعد رائے وینڈ کا رخ کریں گے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر مقدمات کے فیصلوں تک ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے۔

سنیچر کو پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف، عوامی مسلم لیگ اور پاکستان عوامی تحریک نے لاہور اور راولپنڈی میں حکومت کے خلاف ریلیاں نکالیں جو پارٹی کے سربراہان کے خطاب کے بعد منتشر ہوگئیں۔ حکومت کی جانب سے دونوں شہروں میں کنٹریز اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے احتساب مارچ کی قیادت عمران خان نے کی اور یہ مارچ لاہور کے علاقے شاہدرہ سے شروع ہو کر پنجاب اسمبلی چیئرنگ کراس تک پہنچا۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر وزیراعظم نواز شریف پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ وزیراعظم نے مختلف اداروں میں کرپٹ لوگوں کو بھرتی کیا ہوا ہے اور وہ میڈیا ہاؤسز کو بھی پیسے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

انھوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے تاکہ وہ بیرونِ ملک نہ جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاناما لیکس سے متعلق بنائے جانے والے ٹی او آرز میں شامل اپوزیشن کے چار سوالات کے جوابات نہ دیے گئے تو وہ عید کے بعد رائے وینڈ کا رخ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کو یہ بتانا ہوگا کہ انھوں نے لندن کے فلیٹ کیسے خریدے لیٹر دکھائیں، فلیٹ خریدنے کے لیے پیسہ بیرونِ ملک کیسے بھجوایا بینک کے ذریعے یا منی لانڈرنگ کی، اور بتائیں کہ انھوں نے ٹیکس ادا کیا یا نہیں۔

کنٹینرز کے باعث دونوں شہروں میں دو مریض بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کے باعث ہلاک ہو گئے تھے
،تصویر کا کیپشنکنٹینرز کے باعث دونوں شہروں میں دو مریض بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کے باعث ہلاک ہو گئے تھے

ان ریلیوں اور ان کے راستے میں کنٹینرز موجود تھے اور لاہور اور راولپنڈی میں راستے بند تھے جس کے باعث ہسپتال پہنچنے میں تاخیر سے ایک خاتون اور ایک بچہ فوت ہو گئے۔

پاکستان عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر طاہر القادری نے مری روڈ کے علاقے رحمٰن آباد پر کارکنان سے خطاب میں کہا کہ 17 جون 2014 کو ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے کارکنوں کے قاتلوں کو ابھی تک سزا نہیں ملی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیشہ ان کی جماعت نے پرامن احتجاج کیا ہے اور انصاف نہ ملنے تک یہ احتجاج ایسے ہی جاری رہے گا اور تین مراحل کا ابتدائی مرحلہ آج کی ریلی تھا۔

’ہمارے پاس دو آپشن ہیں جاتی عمرہ اور اسلام آباد۔‘

تاہم اپنے خطاب کے بعد وہ واپس لوٹ گئے اور یوں ان کی قصاص ریلی اختتام پذیر ہوئی۔

ہمارے پاس دو آپشن ہیں جاتی عمرہ اور اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنہمارے پاس دو آپشن ہیں جاتی عمرہ اور اسلام آباد

اس ریلی سے ڈاکٹر طاہرالقادری نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنا تھا لیکن رات گئے طاہر القادری نے بھی ریلی میں از خود شرکت کرنے کا اعلان کیا۔

پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی پاکستان عوامی تحریک کی ریلی میں شامل ہوئے۔

راولپنڈی کی انتظامیہ کی جانب سے فیض آباد سے لیاقت باغ تک تمام داخلی راستوں کو کینٹینرز لگا کر بند کیاگیا۔

شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کی جانب جانے والے تمام راستے بھی سیل کردیے گئے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس سے قبل پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ انصاف کی ریلی کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ نے پی ٹی آئی کی مشاورت سے داخلی اور خارجی مقامات کا تعین کیا اور باقی روٹ کو کنٹینرز لگا کر فول پروف بنایا گیا۔

چیئرانگ کراس پر نجی ٹی وی سے وابستہ ایک خاتون نیوز اینکر کرین سے گر کر زخمی ہو گئی۔ انھیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا۔

اس مرتبہ خواتین کے لئے کوئی خصوصی انکلوژر نہیں بنایا گیا تھا
،تصویر کا کیپشناس مرتبہ خواتین کے لئے کوئی خصوصی انکلوژر نہیں بنایا گیا تھا

لاہور سے صحافی عبدالناصر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی ریلی کے 14 کلو میٹر کو روٹ پر کئی مقام پر کنٹنرز لگا کر بند کیا گیا۔

پی ٹی آئی کی ریلی اس مرتبہ بھی خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی تاہم اس مرتبہ ان کے لئے کوئی خصوصی انکلوژر نہیں بنایا گیا بلکہ کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچانے کے لئے انہیں ایک بڑے کنٹینر پر جگہ دی گئی تھی۔

یوں تو عوامی تحریک اور جماعت اسلامی نے بھی پی ٹی آئی کی ریلی میں شرکت کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم مسلم لیگ ق کی شرکت بڑی واضح تھی اور مسلم لیگ ق کے راہنماؤں سینیٹر نے شرکت کی۔ مسلم لیگ ق نے اپنے کنٹینر کا بھی اہتمام کیا جس پر مسلم لیگ ق کے جھنڈے نصب تھے اور سائیکل کا انتخابی نشان پر لگایا گیا تھا۔

اپنے خطابات میں عمران خان نے آرمی چیف کو سلام پیش کیا جب کہ طاہرالقادری نے آرمی چیف کے نام پیغام میں کہا کہ وہ اپنا وعدہ کب ایفا کریں گے۔