عوامی تحریک کی بھی نواز شریف کے خلاف درخواست

نواز شریف ان دنوں علاج کے سلسلے میں لندن میں مقیم ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننواز شریف ان دنوں علاج کے سلسلے میں لندن میں مقیم ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان عوامی تحریک نے بھی وزیر اعظم میاں نواز شریف کی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کروا دی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم نے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے گوشواروں میں اپنے اہل خانہ کے اثاثے چھپائے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے آئین کے آرٹیکل 62، 63 کے علاوہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12 اور 42 کی بھی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے اُنھیں نااہل قرار دیا جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف اور پیپلز پارٹی پہلے ہی نواز شریف کی نااہلی کے بارے میں درخواستیں دائر کر چکی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اندرون اور بیرون ملک اثاثے چھپانا ریاست سے غداری کے مترادف ہے اور پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کے نام آنے کے بعد اُن کی ریاست سے وفاداری مشکوک ہو گئی ہے۔

اس درخواست کے ساتھ ماڈل ٹاؤن لاہور میں منہاج القرآن پر پولیس اہلکاروں کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ کے بعد درج ہونے والے مقدمے کی نقل بھی منسلک کی گئی ہے جس میں میاں نواز شریف بھی ملزمان میں شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کی تشکیل نامکمل ہے اور جب تک اس کی تشکیل مکمل نہیں ہوتی اس وقت تک ان درخواستوں کی سماعت نہیں ہو سکتی
،تصویر کا کیپشنالیکشن کمیشن کے چاروں ارکان کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کی تشکیل نامکمل ہے اور جب تک اس کی تشکیل مکمل نہیں ہوتی اس وقت تک ان درخواستوں کی سماعت نہیں ہو سکتی

پاکستان عوامی تحریک حزب مخالف کی جماعت ہے، تاہم اس کی پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے میاں نواز شریف کے خلاف قومی احتساب بیورو میں بھی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی ذمہ داری پارٹی پارٹی کے سیکریٹری جنرل سردار لطیف کھوسہ کو سونپی گئی ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کی تشکیل نامکمل ہے اور جب تک اس کی تشکیل مکمل نہیں ہوتی اس وقت تک ان درخواستوں کی سماعت نہیں ہو سکتی۔

الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی سے متعلق حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان رابطے ہوئے ہیں، تاہم حتمی ناموں پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔