پاناما پیپرز پر پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی پہلی بار’متحد‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے ملنے والی خفیہ دستاویزات میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بچوں کے نام آنے کے بعد قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کے دوران حزب مخالف کی جماعتیں چھائی ہوئی دیکھائی دیں۔
حمکراں جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی ایوان میں داخل ہونے کے دوران اُن کی باڈی لینگویج سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ دباؤ میں ہیں۔
پاناما لیکس کے معاملے پر قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف پہلی بار ایوان میں متحد دکھائی دیں جبکہ اُن کی حمایت کرنے والی دیگر جماعتوں میں جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ شامل ہیں۔ قومی اسمبلی میں ان دونوں جماعتوں کے ارکان کی تعداد چار ہے۔
پارلیمنٹ کے اجلاس کی کوریج کرنے والے چند صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ اتحاد زیادہ دیر تک نہیں چلے گا کیونکہ اس پاناما پیپرز لیکس میں پاکستان کی سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور سابق وفاقی وز یر داخلہ رحمان ملک کے بھی نام ہیں۔
عمران خان سات ماہ سے بھی زائد عرصے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہلی بار شریک ہوئے۔ اور وہ ایوان میں اس فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے جیسے بہت بڑی چیز اُن کے ہاتھ لگ گئی ہے۔
عمران خان کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین نے اُن پر فقرے بھی کسے تاہم قومی اسمبلی کے سپیکر نے اُنھیں ایسا کرنے سے سختی سے منع کیا۔ اپنی تقریر کے دوران عمران خان نے حکومت کو یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر اُن کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو اُن کے پاس سڑکوں پر آنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کچھ دیر اجلاس میں شریک ہونے کے بعد اُٹھ کر چلے گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں وزیراعظم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کسی بھی طور پر اس معاملے میں بلواسطہ یا بلاواسطہ ملوث نہیں ہیں۔ دیگر کچھ اراکان نے بھی وزیراعظم کے حق میں تقریر کرتے ہوئے اپنی والہانہ محبت کا اظہار بھی کیا۔
حکمراں جماعت کے اراکین پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور دیگر جماعتیں وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی۔ پاناما لیکس میں دو سو زیادہ دیگر پاکستانیوں کے بارے میں کسی بھی رکن نے کچھ بھی نہیں کہا۔
پاناما لیکس کے معاملے پر ایوان میں اجلاس کی معمول کی کارروائی کو معطل کر کے اس معاملے کو زیر بحت لایا گیا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی ناقص کاکردگی کو زیر بحث بھی لایا جانا تھا۔
پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کوریج کرنے والے نجی الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی سکائپ کے ذریعے میڈیا لاؤنج میں لگے ہوئے ٹی وی سے ارکان اسمبلی کی تقاریر مختلف ٹی وی چیبلز پر براہ راست نشر کرتے رہے جبکہ سرکاری ٹی وی جو قومی اسمبلی کی کارروائی براہ راست دکھانےکا مجاذ ہے، نے اس معاملے پر وفاقی وزیر سمیت حکومتی اراکین کی تقاریر نشر نہیں کیں۔







