’انکوائری کمیشن کا خیر مقدم کرتے ہیں‘

سلیم سیف اللہ کا کہنا ہے کہ وہ براہ راست خاندانی کاروبار سے منسلک نہیں ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسلیم سیف اللہ کا کہنا ہے کہ وہ براہ راست خاندانی کاروبار سے منسلک نہیں ہیں

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما سلیم سیف اللہ خان نے وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے پاناما لیکس کے انکشافات پر انکوائری کمیشن بنانے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے کاروبار اور آف شور کمپنیوں کی تمام دستاویزات کمیشن کے سامنے رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاناما لیکس کے پس منظر میں بدعنوانی کے تمام الزامات سے وہ بری ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے خاندان اس ملک سے سو سال سے کاروبار سے منسلک رہا ہے اور ان کی بڑی بڑی لسٹڈ کمپنیاں ہیں جو سیمنٹ، چینی اور موبائل فون کے کاروبار سے منسلک ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات جس کی تحقیق ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ آیا جو رقم سمندر پار کمپنیوں میں جمع کرائی گئی کیا وہ جائز طریقے سے بنائی گئی یا وہ بدعنوانی سے حاصل کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ بعض اوقات بین الاقوامی سطح پر کاروبار کرنے کے لیے یا اپنی کمپنیوں کے حصہ داروں کے مالی مفاد کے پیش نظر آف شور کمپنیاں یا سمندر پار کمپنیاں بنانا ضروری ہو جاتا ہے۔

انھوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ ان کے خاندانی کاروبار کی آف شور کمپنیاں ہیں اور اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے خاندان والوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ یا سرکاری عہدوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی طریقے سے پیسہ نہیں بنایا ہے۔