’کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ جرم ہوا ہے‘

کروڑوں دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد متعدد ممالک کے طاقتور اور امیر افراد کی ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکروڑوں دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد متعدد ممالک کے طاقتور اور امیر افراد کی ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے

پاناما کی لا کمپنی موساک فونسیکا کے شریک بانی کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی ہیکنگ کا نشانہ بنی ہے۔

کمپنی کے شریک بانی رامون فونسیکا کہنا ہے کہ معلومات کے افشا ہونے میں اندرونی ہاتھ نہیں ہے اور کمپنی کو بیرون ملک قائم سرورز کے ذریعے سے ہیک کیا گیا ہے۔

کمپنی نے پاناما کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں ہیکنگ کی شکایت درج کرا دی ہے۔

کروڑوں دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد متعدد ممالک کے طاقتور اور امیر افراد کی ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

کمپنی کے بانی شراکت داروں میں سے ایک فونسیکا نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’ہم حیران ہیں کہ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہاں جرم ہوا ہے۔‘

اُنھوں نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’دنیا پہلے ہی اِس بات کو قبول کر رہی ہے کہ رازداری انسانی حق نہیں ہے۔‘

اطلاعات ہیں کہ گذشتہ ہفتے کمپنی کی جانب سے اپنے صارفین کو ای میل بھیجی گئی تھی کہ ’ہمارے ای میل سرور میں غیرقانونی طریقے سے خلل اندازی کی گئی ہے۔‘

کمپنی نے ذرائع ابلاغ کے اداروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’ہماری کمپنی کی نجی دستاویزات اور معلومات تک غیر قانونی رسائی‘ کے ذریعے سے افشا ہونے والی معلومات کی خبریں دے رہے ہیں اور اُن کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اتوار کو برطانوی اخبار گارڈین کو تحریر کردہ خط میں کمپنی کے تعلقات عامہ کے سربراہ نے ’غیر قانونی طور پر حاصل کی جانے والی‘ معلومات کے استعمال پر ممکنہ قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

متعدد ممالک جہاں کی اہم شخصیات اِن میں ملوث ہیں، خفیہ معلومات کے افشا ہونے پر سیاسی رد عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

آئس لینڈ کے وزیر اعظم سیگمندر گُنلاؤگسن نے بھی منگل کو خفیہ دستاویزات میں نام شامل ہونے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

افشا ہونے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق وزیراعظم اور اُن کی اہلیہ ایک آف شور کمپنی کی مالک ہیں جو اُنھوں نے پارلیمان میں آتے وقت ظاہر نہیں کی تھی۔ ان پر لاکھوں ڈالر مالیت کے خاندانی اثاثے چھپانے کا بھی الزام ہے۔

ُگنلاؤگسن کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے حصص اپنی اہلیہ کو فروخت کر دیے تھے، اُنھوں نے کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔