پاناما لیکس: آئس لینڈ کے وزیر اعظم مستعفی

،تصویر کا ذریعہGetty
آئس لینڈ کے وزیر اعظم سیگمندر گُنلاؤگسن نے خود پر آف شور کمپنی سے مبینہ طور پر لاکھوں ڈالرز چوری کرنے کا الزام عائد ہونے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔
اس سے قبل انھوں نے ملک کے صدر سے پارلیمان کو تحلیل کرنے کی درخواست کی تھی۔
خیال رہے کہ آئس لینڈ کے وزیر اعظم سیگمندر گُنلاؤگسن پر پاناما کی ایک لا کمپنی موساک فونسیکا سے افشا ہونے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق وہ اور ان کی بیوی آف شور کمپنی وینٹرس کے مالک تھے۔
آئس لینڈ میں اس حوالے سے پیر کو پارلیمان کے سامنے ایک بڑا مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔
موساک فونسیکا سے ملنے والی خفیہ دستاویزات میں دنیا کے درجنوں ہائی پروفائل شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔
آئس لینڈ کے وزیر اعظم سیگمندر گُنلاؤگسن نے صدر اولاور ریگنر گریمسن کو پارلیمان کو تحلیل کرنے کی درخواست حزبِ مخالف کی جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے مطالبے کے بعد دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق صدرگریمسن نے ملک کی سیاسی جماعتوں کے بات چیت تک پارلیمان کو تحلیل کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔



