پاناما لیکس پر صوبائی اسمبلی میں ہنگامہ اور واک آؤٹ

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بچوں کے بارے میں پاناما لیکس میں ہونے والے انکشافات پر بدھ کو پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان کی طرف سے شدید احتجاج کے بعد اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیا گیا۔
اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی مجوزہ قرارداد میں ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حاضر سروس ججوں پر مشتمل کمیشن کے تحت وزیراعظم اور ان کے خاندان پر لگے الزامات کی تحقیقات کروائی جائیں، اور وزیراعظم مستعفی ہو کر کمیشن کے سامنے پیش ہوں تاکہ ان الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہو سکیں۔
تاہم اپوزیشن کو اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر حزب اختلاف نے ایوان سے علامتی واک آوٹ کیا۔ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں حکومتی ارکان نے پاناما لیکس کی مذمت کی قرارداد منظور کر لی، جس میں کہا گیا ہے کہ پاناما لیکس دراصل ’شیطانی لیکس‘ ہیں، اور پنجاب اسمبلی کا ایوان پاناما لیکس کے ذریعے عدم استحکام پھیلانے کو مسترد کرتا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ قانون رانا ثنااللہ نے اس معاملہ پر آواز اٹھانے والے اپوزیشن ارکان پر نکتہ چینی کی۔
’ایسے لوگ جو خود نظریاتی طور پر بے ایمان ہوں، جو خود اپنے ضمیر بیچتے رہے ہوں، وہی لوگ الزام لگا رہے ہیں اور تبصرے کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں محض ان کے الزامات کی بنیاد پر استعفے کا مطالبہ کیا جائے تو ہمارے ملک اور ایسے ماحول میں کوئی بھی شخص کام کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔‘
اسمبلی کے باہر پاکستان عوامی لیگ کے کارکن بڑی تعداد میں موجود رہے اور پاناما لیکس کے معاملے پر احتجاج کرتے رہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں بھی کالا دھن چھپانے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کی گئی۔ قرارداد پاکستان تحریک انصاف کے لائرز ونگ کے طاہر نواز سندھو کی جانب سے دو روز پہلے دائر کی گئی تھی جس پر لاہور ہائیکورٹ نے اعتراض لگا دیا تھا۔ تاہم آج اعتراض کو ختم کر دیا گیا اور درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر دیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جن سیاست دانوں نے ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک اثاثے بنائے ہیں انھیں نااہل قرار دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ درخواست بھی پاناما لیکس کو بنیاد بنا کر دائر کی گئی ہے۔
دریں اثنا پاکستان کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے پاناما لیکس میں اپنے خاندان کے مالی اثاثوں کے بارے میں ہونے والے انکشافات کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والے تحقیقاتی کمیشن کو مسترد کر دیا ہے۔
پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا کی خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر میں چوٹی کے امیر اور طاقتور لوگ اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں تاکہ انھیں ٹیکس سے چھوٹ مل سکے۔
پاناما لیکس میں پاکستان کے کئی ایسے سیاست دانوں اور اہم شخصیات کے نام ہیں جو کالا دھن سفید کرنے اور ٹیکس بچانے کے لیے آف شور کمپنیاں بناتے رہے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں سب سے زیادہ تنقید وزیر اعظم اور ان کے خاندان پر ہی کی جا رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن کی تمام اہم جماعتوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم مستعفی ہوں اور خود کو احتساب کے لیے پیش کریں۔
اس حوالے سے سب سے زیادہ تنقید پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کی۔ جن کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس پاکستان سے تو نہیں نکلے کہ اپوزیشن کو کوسا جا رہا ہے۔
’ایک پارلیمانی کمیشن بنایا جائے، جو جوڈیشل کمیشن کی طرح تحقیقات کرنے اور شواہد لینے کے اختیارات رکھتا ہو۔ یہ کمیشن شریف خاندان کو، جن کے سربراہ نے 20 سال پہلے صفر انکم ٹیکس دیا ہو، کے تمام تر اثاثوں کی تحقیقات کرے۔‘
اعتراز احسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر یہ الزامات کسی عام کاروبای شخص پر لگے ہوتے تو اب تک تحقیقات شروع ہوچکی ہوتیں۔ لیکن اتنے دن گزر جانے کے بعد بھی نیب، ایف بی آر اور ایف آئی اے جیسے ادارے حرکت میں نہیں آئے۔ یہ ان اداروں کا اختیار ہے کہ وزیراعظم پر لگے الزامات کی تحقیقات کریں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیشن کو مسترد کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ اگر کمیشن حاضر سروس ججوں پر مشتمل ہو تو اپوزیشن جماعتیں بھی اپنے ثبوت اس کے سامنے پیش کریں گی۔
’بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا شریف خاندان نے اپنے کاروبار کا منافع درست طریقے سے کاغذوں میں ظاہر کیا؟ ہماری معلومات یہ ہیں کہ شریف خاندان اپنا بہت کم منافع ظاہر کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ اتنے امیر کیسے ہوتے۔ انھیں چاہیے کہ اپنے مکمل اثاثے اور بیلنس شیٹ عوام کے سامنے پیش کریں۔‘







