پاناما پیپرز پر بحث:’ بین الاقوامی فرم سےتحقیقات کروائیں‘

پاناما پیپرز کے معاملے پر پیپلز پارٹی، پاکستان تحریکِ انصاف اور عوامی مسلم لیگ کا اتحاد ہے
،تصویر کا کیپشنپاناما پیپرز کے معاملے پر پیپلز پارٹی، پاکستان تحریکِ انصاف اور عوامی مسلم لیگ کا اتحاد ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پاناما پیپرز میں ملک کے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے نام آنے کے بعد دائر کی جانے والی تحریک التوا پر بحث جاری ہے۔

خیال رہے کہ پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا کی خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا تھا کہ دنیا بھر میں چوٹی کے امیر اور طاقتور لوگ اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں تاکہ انھیں ٹیکس سے چھوٹ مل سکے۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں جمعرات کی شام معمول کی کارروائی روک دی گئی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دائر کی گئی تحریک التوا پر بحث کا آغاز کیا گیا۔

اپورزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اپنے خطاب میں وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے پاناما لیکس کے حوالے سے بنائے جانے والے عدالتی کمیشن کو مسترد کر دیا۔

اس معاملے پر پیپلز پارٹی، پاکستان تحریکِ انصاف اور عوامی مسلم لیگ کا اتحاد ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ عدالتی کمیشن کے بجائے کسی بین الاقوامی فرم سے تحقیقات کروائی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے جج کو کیا پتہ کہ آڈٹ کیا ہوتا ہے۔ دو تین ماہ کیا تین سال تک کوئی ثبوت نہیں آئیں گے۔‘

اپنے خطاب میں سید خورشید شاہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے خود تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے آف شور کمپنیاں ٹیکس سے بچنے کے لیے قائم کی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاناما پیپرز کا معاملہ کسی اپوزیشن جماعت نے نہیں اٹھایا اور نہ ہی میڈیا نے اٹھایا ہے اس لیے اس پر تحقیقات ہونی چاہییں۔

اپوزیشن لیڈر نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم کو خطاب کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

بعد ازاں وفاقی وزیرِ دفاع آصف خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے نہایت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انکوائری کمیشن سے تسلی نہ ہو تو سپریم کورٹ جایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انکوائری کمیشن ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ہی بنتا ہے۔

وزیرِ دفاع نے سوال کیا کہ عمران خان بتائیں کہ انھوں نے آف شور کمپنیوں میں جو سرمایہ کاری کی تھی جس کے بارے وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 2015 میں انھیں پیسے واپس ملے تھے تو بتایا جائے وہ ہیں کتنے ہیں؟

عمران خان نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر ہماری بات نہ مانی گئی تو ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ شوکت خانم کی بات کر کے انھیں بلیک میل کیا جا رہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے بارے میں بات نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پر الزامات لگے ہیں جن میں الیکشن کمیشن کو غلط بیانی کرنا، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ شامل ہیں۔