’پاکستان سے پولیو کا خاتمہ آئندہ چند ماہ میں ممکن‘

رواں مہم کے دوران تقریبا ایک کروڑ بچوں کو پولیو کی دوائيں پلائی جائیں گی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنرواں مہم کے دوران تقریبا ایک کروڑ بچوں کو پولیو کی دوائيں پلائی جائیں گی

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران پاکستان سے پولیو کی بیماری کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ادارے کے نمائندے ڈاکٹر مائیکل تھیئرن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان اور اس کے پڑوسی ملک افغانستان میں پولیو کے معدودے چند مریض ہی سامنے آئے ہیں۔

* <link type="page"><caption> پختون آبادی والے علاقوں ہی میں پولیو آخر کیوں؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/04/160418_polio_khyber_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

* <link type="page"><caption> کراچی:دو بچےقطرے پینےکےباوجود پولیو کا شکار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/02/160217_polio_paksitan_case_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان دنیا میں وہ آخری ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی وبائی مرض کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔

پیر کو پاکستان اور افغانستان میں انسدادِ پولیو کی مہم کا آغاز ہوا ہے جس کے تحت آئندہ تین روز میں لاکھوں بچوں کو پولیو سے تحفظ کی دوا پلائی جائے گی۔

پولیو مہم کے دوران سکیورٹی کے خدشات کے بارے میں بات کرتے ہوئے مائیکل تھیئرن نے کہا کہ بعض علاقوں میں پولیو کی دوا دینے والے عملے کے لیے سکیورٹی ایک مسئلہ ہوگی اور انھیں پولیس سکیورٹی کی ضرورت ہوگی۔

پولیو کے عملے کو بعض مقامات جگہوں پر سکیورٹی کی خدمات درکار ہوں گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپولیو کے عملے کو بعض مقامات جگہوں پر سکیورٹی کی خدمات درکار ہوں گی

انھوں نے کہا: ’ہمیں لاجسٹک اور سکیورٹی دونوں سطحوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ عملے کے تقریباً 70 ہزار ارکان 98 لاکھ 60 ہزار بچوں کو پولیو کی دوا پلائیں گے اور ان کے ساتھ محفوظ اور مشکل مقامات کے لیے پولیس کے حفاظتی دستے ہوں گے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سمیت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اکثر اوقات پولیو ٹیموں پر حملے بھی ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے بھی اکثر پولیو کے رضاکار دور افتادہ علاقوں میں جانے سے کتراتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں با رہا اس عزم کا اظہار کر چکی ہیں کہ وہ پولیو کو ہرصورت اپنے ملکوں سے ختم کر دیں گی لیکن دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر اب بھی بیشتر ایسے علاقے ہیں، جہاں پر نہ پاکستانی اور نہ ہی افغان پولیو رضاکاروں کی رسائی ہے۔

اس صورتحال کے باوجود مائیکل تھیئرن پاکستان اور افغانستان سے پولیو کے خاتمے کے بارے میں پر امید نظر آئے۔

انھوں نے کہا: ’ہم لوگ (پولیو کے خاتمے کے) بہت قریب ہیں۔ رواں سال چند کیسز ہی سامنے آئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’میرے خیال سے پاکستان میں تقریبا 11 اور افغانستان میں تقریبا پانچ۔ یہ بہت کم ہیں۔ تاریخ میں یہ سب سے کم تعداد ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم پاکستان میں پولیو کے خاتمے سے چند ماہ کے فاصلے پر ہیں۔‘