’پولیس حملے میں ملوث گروہ کی نشاندہی ہو گئی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں پر حملے میں ملوث گروہ کی نشاندھی ہوگئی ہے تاہم انہوں نے اس گروہ کا نام ظاہر نہیں۔
’یہ گروہ اس سے قبل ضلعے غربی میں کئی وارداتیں کرچکا ہے، اس گروہ کے کچھ لوگ تو پکڑے گئے ہیں لیکن حتمی طور پر یہ گروہ ختم نہیں ہوا اس کے دس پندرہ لوگ ابھی باقی ہیں۔‘
اے ڈی خواجہ کے مطابق نظریاتی طور پر جو لوگ معاشرے کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان سے لڑنے کے لیے آپ کو مستقل مزاجی بھی چاہیے آپ کو ہمت، اور یکسوئی بھی چاہیے۔
آئی جی سندھ نے کچی آبادیوں کو بھی مسئلے کی ایک وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے کئی علاقوں میں کچی آبادیاں ہیں یہاں جو لوگ رہتے ہیں ان کا ڈیٹا کہیں دستیاب نہیں وہاں غیرقانونی تارکین وطن بھی رہتے ہیں، ملک دشمن بھی رہتے ہیں۔
آئی جی نے زیر تربیت جوانوں کو پر خطر علاقے میں بھیجنے کے الزامات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ جوان پولیو ورکرز کی سکیورٹی کے لیے گئے ہوئے تھے اور کچھ باہر سے سکیورٹی کے لیے آئے تھے اس لیے انہیں اس علاقے میں خطرات کے بارے میں اتنا اندازہ نہیں تھا جس وجہ سے یہ نقصان ہوا تاہم وہ کوشش کریں گے آئندہ ایسی قسم کی غفلت نہ ہو۔
دوسری جانب بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایس پی اورنگی علی آصف کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے ہیں جن میں پولیس کی مختلف ایجینسیوں سمیت دیگر قانون نافظ کرنے والی ایجینسیاں بھی شامل ہیں۔
تاحال شواہد اور تفتیش سے جو باتیں سامنے آئی ہیں وہ ایک مخصوص گروہ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔
ایس پی اورنگی کا کہنا تھا کہ جب سے کراچی آپریشن کا آغاز ہوا ہے اس وقت سے پولیس والوں کی ٹارگٹ کلنگز میں اضافہ ہوا ہے جس میں 2015 میں نسبتاً کمی دیکھنے میں آئی اور 2016 اس سے بھی بہتر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







