پختون آبادی والے علاقوں ہی میں پولیو آخر کیوں؟

پولیو کے قطرے پلانے والے عملے کو اکثر جان کا خطرہ لاحق رہتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپولیو کے قطرے پلانے والے عملے کو اکثر جان کا خطرہ لاحق رہتا ہے
    • مصنف, خدائے نور ناصر
    • عہدہ, بی بی سی، افغان سروس

پولیو اس وقت دنیا کے صرف دو مسلمان ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان میں موجود ہیں، لیکن یہ بیماری ان دونوں ممالک میں بھی پشتوں اکثریتی آبادی والے علاقوں میں زیادہ ہے۔

قبائلی علاقوں سے لیکر خیبرپختونخوا ، بلوچستان کے پشتون علاقوں اور کراچی میں متاثر ہونے والوں بچوں کی اکثریت کا تعلق پشتون گھرانوں سے ہوتاہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے ساتھ پشاور میں کام کرنے والے ڈاکٹر محمد جوہر کے مطابق نہ صرف پاکستان کے پشتون علاقوں، بلکہ افغانستان میں بھی اکثر اُن علاقوں میں پولیو کے کیسز سامنے آتے ہیں جو پاکستانی سرحد کے قریب پشتون علاقوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر جوہر اس کی بڑی وجہ ان علاقوں میں مخدوش صورت حال کو گردانتے ہیں۔

حکومت پاکستان کی طرف دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے گزشتہ تین برسوں سے ملک میں پولیو کیسیز کی تعداد کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے۔ جس کے مطابق سال 2015 میں ملک بھر میں سب سے زیادہ یعنی 16 کیسز فاٹا میں سامنے آئے۔

سال 2014 میں یہ تعداد 179 تھی، جبکہ دوسرے نمبر پر خیبر پختونخوا رہا جہاں سال 2015 میں 15 جبکہ 2014 میں 68 کیس سامنے آئے تھے۔

کئی رضا کاروں کو ہلاک بھی کیا جا چکا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکئی رضا کاروں کو ہلاک بھی کیا جا چکا ہے

ان اعداد و شمار کے مطابق سال 2011 سے اب تک قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ کیسز 2014 میں آئے جب ان کی تعداد 306 رہی۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں سمیت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اکثر اوقات پولیو ٹیموں پر حملے بھی ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے بھی اکثر پولیو کے رضاکار دور آفتادہ علاقوں میں جانے سے کتراتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں با رہا اس عزم کا اظہار کر چکی ہیں کہ وہ پولیو کو ہرصورت اپنے ملکوں سے نکال دیں گے۔ لیکن دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر اب بھی بیشتر ایسے علاقے ہیں، جہاں پر نہ پاکستانی پولیو رضاکار جاسکتے ہیں اور نہ ہی افغانستان کے پولیو رضاکار۔

اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری گھرانے ایک اور بڑا چیلنج ہے جس میں علما کرام اور قبائلی عمائدین کا اہم کردار ہے۔ پشاور ہی سے تعلق رکھنے والے مفتی ظفر کا کہنا ہے کہ اب سب مسلک کے علما کرام اس بات پر متفق ہوچکے ہیں کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں کوئی قباحت نہیں۔

لیکن دوردراز کے علاقوں میں اب بھی کئی ایسے مولوی حضرات ہیں، جو پولیو کو نہ صرف مغرب کی سازش سمجھتے ہیں بلکہ بقول ان کے پولیو کے قطروں میں ایسے اجزا شامل ہیں جو کہ بانجھ پن کا سبب بن سکتے ہیں۔