بنوں میں پولیو کے ایک نئے مریض کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک شیر خوار بچی میں پولیو کے مرض میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس طرح پاکستان میں رواں سال پولیو کے نئے کیسز کی تعداد دس ہوگئی ہے۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق سنہ 2016 میں خیبرپختونخوا میں بنوں سے دو اور نوشہرہ، ہنگو اور پشاور سے ایک ایک کیس سامنے آچکے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل صوبہ سندھ سے چار اور بلوچستان سے بھی پولیو کے ایک کیس کی تصدیق ہوئی تھی۔
گذشتہ سال ماہ مئی تک پولیو کے 24 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔
حالیہ تصدیق 12 ماہ عمر کی بچی سوہائمہ ولد رفعت اللہ میں ہوئی ہے جو ضلع بنوں کے گاؤں کوٹلہ محمد خان فیض طالب عباس کی رہائشی ہے۔
بچی ک والد میڈیکل ریپ ہیں اور اس شیر خوار بچی کو انسداد پولیو کی صرف ایک خوراک دی گئی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سمیت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اکثر اوقات پولیو ٹیموں پر حملے بھی ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے بھی اکثر پولیو کے رضاکار دور آفتادہ علاقوں میں جانے سے کتراتے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں با رہا اس عزم کا اظہار کر چکی ہیں کہ وہ پولیو کو ہرصورت اپنے ملکوں سے نکال دیں گے۔ لیکن دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر اب بھی بیشتر ایسے علاقے ہیں، جہاں پر نہ پاکستانی پولیو رضاکار جاسکتے ہیں اور نہ ہی افغانستان کے پولیو رضاکار۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری گھرانے ایک اور بڑا چیلنج ہے جس میں علما کرام اور قبائلی عمائدین کا اہم کردار ہے۔ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ اب سب مسلک کے علما کرام اس بات پر متفق ہوچکے ہیں کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔







