کراچی:دو بچےقطرے پینےکےباوجود پولیو کا شکار

شیر علی خان اعجاز کے والد ہیں اور ان کے مطابق ڈاکٹرز نے اعجاز کو بخار کی شکایت پر غلط طریقے سے انجکشن لگایا جس کے بعد اچانک اس کی ٹانگوں نے کام کرنا چھوڑ دیا
،تصویر کا کیپشنشیر علی خان اعجاز کے والد ہیں اور ان کے مطابق ڈاکٹرز نے اعجاز کو بخار کی شکایت پر غلط طریقے سے انجکشن لگایا جس کے بعد اچانک اس کی ٹانگوں نے کام کرنا چھوڑ دیا
    • مصنف, نخبت ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں حال ہی میں ایک تین سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ نو مرتبہ پولیو ویکسین پی چکا تھا۔ کراچی میں اس نوعیت کا یہ دوسرا کیس ہے جو سامنے آیا ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں بھی کراچی میں ہی ایک دو سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی جو حکام کے مطابق سات مرتبہ پولیو ویکسین پی چکا تھا۔

کراچی کے پولیو سے متاثرہ بچے اعجاز کے شیر علی خان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے اعجاز کو بخار کی شکایت پر غلط طریقے سے انجکشن لگایا جس کے بعد اچانک اس کی ٹانگوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ لیکن ٹیسٹ کے نتائج آنے کے بعد انھیں بتایا گیا کہ ان کے بچے پر پولیو وائرس حملہ کر چکا ہے۔

انسداد پولیو کے لیے بنائی جانے والی ٹاسک فورس کے سربراہ اور کراچی کے کمشنر سید آصف حیدر نے تشویش ظاہر کی ہے کہ اعجاز کو نو مرتبہ پولیو کے قطرے پلانے کے باوجود اس پر پولیو وائرس نے حملہ کیوں کیا۔

تاہم انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ انتظامی سطح پر کچھ ایسی کوتاہیاں ہو رہی ہیں جن کے باعث انسداد پولیو کی ہر مہم میں کچھ کمی رہ جاتی ہیں۔

ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے سربراہ اور کراچی کے کمشنر، سید آصف حیدر نے تسلیم کیا ہے کہ انتظامی سطح پر کچھ ایسی کوتاہیاں ہو رہی ہیں
،تصویر کا کیپشنٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے سربراہ اور کراچی کے کمشنر، سید آصف حیدر نے تسلیم کیا ہے کہ انتظامی سطح پر کچھ ایسی کوتاہیاں ہو رہی ہیں

ان کا کہنا تھا ’مائیکرو پلاننگ کے ایشو ہیں۔ انسداد پولیو کے لیے کام کرنے والے لوگ گھروں کے نقشے اور علاقوں کی غلط رپورٹ دیتےہیں۔ ٹیموں کی تربیت بھی درست نہیں ہے۔ ٹیمیں پہنچ تو جاتی ہیں مگر صحیح طریقے سے قطرے پلاتی ہیں یا نہیں دوا کو سرد خانے میں رکھنے کے ضروری اقدامات کیے یا نہیں۔ کچھ ٹیمیں بچوں کو قطرے پلا دیتی ہیں مگر ان کی انٹری نہیں کرتیں جس سے معلومات ادھوری رہ جاتی ہے۔‘

ڈاکٹر اقبال میمن پاکستان میں گذشتہ 30 سال سے بچوں کے معالج ہیں۔ کئی سرکاری اور غیر سرکاری تنظمیوں سے مشاورت کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان میں اب بات بچوں میں پولیو ویکسین کے چند قطرے پلانے سے کہیں دور جا چکی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’پاکستان میں بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ اب بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے والی ٹیمیں بھی معمول کے مطابق گھر گھر نہیں جاتیں۔ جبکہ ملک میں پولیو وائرس کے ذخیرے موجود ہیں۔ کراچی بھی ایسا ہی ایک شہر ہے۔ ایسے میں حکومت کو محض پولیو ویکسین پلانے کی نہیں بلکہ اس ویکسین کو انجیکشن کی صورت میں دینے کی بھی ضرورت ہے۔‘

لیکن سید آصف حیدر کا کہنا ہے کہ یہ ایک چیلنج ہے۔ اس وقت ایسی ٹرنینگ اور ایسے طریقہ کار کی ضرورت ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ انسداد پولیو کی ٹیمیں درست کارروائیاں کر بھی رہی ہیں یا نہیں۔

ڈاکٹر اقبال میمن کے مطابق پاکستان میں اس وقت پانچ سال سے کم عمر بچوں کی آبادی دو کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے پولیو کو قومی ایمرجنسی قرار دیا ہے حکومت کی جانب سے چاروں صوبوں میں ایسے ایمرجنسی سنٹرز قائم کیے گئے ہیں جو انسداد پولیو کے لیے کام کر رہے ہیں۔

کراچی میں قائم ایمرجسنی سنٹر میں سندھ کے کوارڈینیٹر عثمان چاچڑ کا کہنا تھا کہ میڈیکل افسران جعلی معلومات فراہم کرتے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنکراچی میں قائم ایمرجسنی سنٹر میں سندھ کے کوارڈینیٹر عثمان چاچڑ کا کہنا تھا کہ میڈیکل افسران جعلی معلومات فراہم کرتے رہے ہیں

کراچی میں قائم ایسے ہی سنٹر میں تعینات کیے گئے سندھ کے کوارڈینیٹر عثمان چاچڑ ہیں۔ اس سنٹر میں کام کرنے والے وہ واحد سرکاری افسر ہیں جبکہ باقی عملہ غیر ملکی ہے جس کا تعلق عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں سے ہے۔

انتظامی غلطیوں اور کوتاہیوں کے بارے میں عثمان چاچڑ کا کہنا تھا کہ ’میڈیکل افسران اور یونین کونسلز کا رویہ ایسا تھا کہ وہ جعلی فارم بھرتے رہے ہیں۔ جعلی معلومات فراہم کرتے رہے ہیں۔ پولیو کا انسداد وقت مانگتا ہے اور وہ جان چھڑانے کے لیے ایسا کرتے رہے ہیں۔ یہ ایسی غفلت ہے جس پر حکومت کو زیادہ سے زیادہ سزا دینے کے بارے میں سوچنا ہو گا۔‘

ملک میں شروع کی گئی حالیہ تین روزہ انسداد پولیو مہم ختم ہو چکی ہے جس میں محض کراچی میں چھ ہزار سے زیادہ ٹیموں کو پولیو ویکسین پلانے کے لیے شہر بھر میں بھیجا گیا۔ طبی ماہرین کے خدشات اور سکیورٹی کی صورتحال کے ساتھ ساتھ انتظامی غفلتوں کی موجودگی میں حکومت کے لیے پولیو کے خاتمے کا ایک حتمی ٹائم فریم دینا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔