’حملے کے ذمہ داران افغانستان میں، صدر غنی سے مدد کا مطالبہ‘
پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کر کے چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے ذمہ داران کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی میں تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔
بدھ کی صبح ہونے والے اس حملے میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر اور طلبا سمیت 21 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ چار حملہ آور بھی فوج کی جوابی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔
<link type="page"><caption> دعائیہ تقاریب کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2016/01/160121_charsadda_vigil_pictures_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> باچا خان یونیورسٹی پر حملہ ’کافی معلومات مل چکی ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/01/160120_ispr_briefing_charsadda_attack_hk" platform="highweb"/></link>
ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ تحقیقات اور ملنے والے شواہد سے پتہ چلا ہے کہ بدھ کو یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے شدت پسند افغانستان میں موجود کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ایک کارندے سے رابطے میں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان حملہ آوروں کو افغانستان سے موبائل فون کے ذریعے بھی ہدایات دی جا رہی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اس سلسلے میں جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ اور افغانستان میں ریزولیوٹ سپورٹ مشن کے کمانڈر جنرل جان کیمبل سے فون کے ذریعے رابطہ کیا اور ان سے اس واقعے کی تفصیلات اور تحقیقات کا تبادلہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان نے کہا کہ برّی فوج کے سربراہ نے افغان رہنماؤں اور امریکی جنرل سے چارسدہ یونیورسٹی پر حملے کے ذمہ داران کی نشاندہی کرنے، ان کے خلاف کارروائی میں مدد دینے اور انھیں قانون کے کٹہرے میں لانے میں مدد دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان نے بدھ کی شب ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ چارسدہ حملے میں ملوث گروہ کی شناخت ہوگئی ہے مگر ابھی تحقیقات مکمل ہونے تک ان تفصیلات کو منظر عام پر نہیں لایا جاسکتا۔

،تصویر کا ذریعہAP
ادھر صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیس نے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے تناظر میں کارروائی کرتے ہوئے صوبے کے مختلف علاقوں سے 60 سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
اس واقعے پر جمعرات کو ملک بھر میں سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ اس حملے کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ابتدائی تحقیقات کے بعد باچا خان یونیورسٹی کے نواحی علاقو ں میں آپریشن کیا جس کے دوران 20 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
اس کے علاوہ سوات کے علاقے قمبر سے ایک اور کوہاٹ سے 43 افراد کو پکڑا گیا ہے جن کی قبضے سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔
چارسدہ کے تھانہ سرڈھیری کے ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یونیورسٹی پر حملے کی ایف آئی آر ایس ایچ او تھانہ سرڈھیری کی مدعیت میں محکمۂ انسداد دہشت گردی مردان میں نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف درج کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایف آئی آر میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، پولیس پر حملے، املاک کو نقصان پہنچانے اور اسلحہ رکھنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
دوسری جانب وزارت داخلہ کے مطابق نادرا نے چارسدہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کے فنگر پرنٹس کے ذریعے شناخت پر رپورٹ مکمل کر کے وزیرِداخلہ کو پیش کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چار میں سے دو دہشت گردوں کی عمریں 18 سال سے کم ہیں جبکہ وزیرِداخلہ نے انٹیلی جنس اداروں اور سکیوررٹی اداروں سے مذکورہ معلومات شیئر کرنے کی ہدایت کی ہے۔







