پشاور میں فوجی ٹرک کے قریب دھماکہ، دو اہلکار زخمی

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بم دھماکوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی دیکھی جارہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ چند ہفتوں کے دوران خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بم دھماکوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی دیکھی جارہی ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں کم سے کم دو فوجی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ حملہ اتوار کی صبح پشاور، اسلام آباد موٹروے کے ٹول پلازہ کے نزدیک ہوا اور سکیورٹی فورسز کا ایک ٹرک اس کا نشانہ بنا۔

پشاور پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی ٹرک تربیلا سے پشاور آ رہا تھا کہ سڑک کے کنارے نصب ایک ریموٹ کنٹرول بم کا نشانہ بنا۔

ان کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سڑک کے درمیان واقع گرین بیلٹ میں رکھا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ دھماکے میں دو اہلکار معمولی زخمی ہوئے جبکہ گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

تاہم آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے مختصر بیان میں ایک اہلکار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بم دھماکوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی دیکھی جارہی ہے۔

چند دن قبل کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار کے ایک بازار میں ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں 24 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں نادار کے دفتر پر ہونے والے حملے میں بھی کم سے کم 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

مردان دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الحرار نے قبول کی تھی۔