قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دھماکہ، کم سے کم تین افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں ایک گاڑی پر ہونے والے بم حملے میں کم سےکم تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد عام شہری ہیں۔
پولیٹیکل انتظامیہ مہمند کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ بدھ کی شام ایجنسی کے دور افتادہ علاقے تحصیل انبار میں خارہ درہ کے مقام پر سڑک کے کنارے ہوا۔
انھوں نے کہا کہ نوجوان لڑکے کرکٹ میچ کھیلنے کے بعد ٹیکسی میں اپنے مکان کی طرف جا رہے تھے کہ سڑک کے کنارے نصب ایک بارودی سرنگ کے دھماکے کا نشانہ بن گئے۔
انھوں نے کہا کہ دھماکے میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں دو نوجوان لڑکے شامل ہیں جن کی عمریں 12سے 15 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں جبکہ زخمیوں میں بھی دو لڑکے شامل ہیں ۔
تاہم ابھی تک اس واقعے کی وجہ فوری طورپر معلوم نہیں ہو سکی اور نہ ہی کسی تنظیم کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔
اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور اپنے گاؤں کے لڑکوں کو گاڑی بیٹھا کر انھیں لے کر جا رہے تھے کہ اس دوران ایک کچے راستے میں ان کی گاڑی دھماکہ خیز مواد سے جا ٹکرائی۔
مہمند ایجنسی میں گذشتہ دو دنوں میں یہ تیسرا دھماکہ ہے۔ اس سے قبل پیر کو بھی مہمند ایجنسی کے علاقے تحصیل بیزئی میں سکیورٹی فورسز پر دو الگ الگ حملوں میں دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الحرار نے قبول کی تھی۔
خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں گذشتہ کچھ عرصہ سے ایک مرتبہ پھر شدت پسند حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بیشتر حملوں میں سکیورٹی اہلکار اور طالبان مخالف امن کمیٹیوں کے رضاکار نشانہ بنے ہیں۔
مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں علاقے سے شدت پسندوں کے تمام ٹھکانے ختم کرنے کا دعویٰ کیا گیا تاہم ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تسلسل سے جاری ہیں۔







