’تیراہ میں بمباری سے 21 شدت پسند ہلاک‘

خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے فروری میں خیبر ٹو آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے فروری میں خیبر ٹو آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی میں 21 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو پاک افغان سرحدی علاقے میں جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کےان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جو خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں موجود ہیں۔

اس علاقے میں حالیہ عرصے میں سکیورٹی فورسز اور امن کمیٹیوں کے رضاکاروں پر حملوں کا سلسلہ دیکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے جولائی میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔

خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز 2007 اور 2008 میں کیا گیا تھا۔

تاہم فوج نے گذشتہ سال اکتوبر میں خیبر ایجنسی میں خیبر ون کے نام سے ایک اور بڑے آپریشن کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر اس آپریشن کا دائرہ صرف باڑہ سب ڈویژن کے علاقوں تک محدود رکھا گیا تاہم بعد میں دیگر علاقے بھی اس میں شامل کیے گئے۔

آرمی پبلک سکول حملے کے بعد فوج کی طرف سے ملک بھر میں کارروائیوں میں تیزی لائی گئی جس کے تحت رواں سال فروری کے آخر میں سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر ون کا دوسرا مرحلہ یعنی خیبر ٹو کا آغاز کر دیا۔

یہ آپریشن دور افتادہ پاک افغان سرحدی علاقوں وادی تیراہ اور دیگر ان علاقوں میں کیا گیا جہاں پہلے سکیورٹی فورسز کی کوئی عمل داری نہیں تھی۔

خیبر ایجنسی میں عرصہ دراز سے کالعدم شدت پسند تنظیمیں متحرک تھیں جن میں لشکر اسلام اور تحریک طالبان کے علاوہ انصار الاسلام شامل ہیں۔

خیبر ایجنسی میں ان تنظیموں کے خلاف گذشتہ سات سالوں میں چار سے پانچ فوجی آپریشن کیے گئے ہیں۔