’خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مکمل‘

شوال کی کارروائی کے بارے میں فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں شدت پسندوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے
،تصویر کا کیپشنشوال کی کارروائی کے بارے میں فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں شدت پسندوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے
    • مصنف, طاہر خان
    • عہدہ, بی بی سی پشتو، اسلام آباد

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مکمل کر لی گئی ہے جبکہ شمالی وزیرستان میں شوال کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ابتدائی کارروائی کا پہلا مرحلہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب ایک منصوبے کے تحت کامیابی سے جاری ہے اور فوج اسے جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں اس آپریشن کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیتا رہا ہوں۔ اس کی ایک وجہ ہے۔ اس میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ ہمارے اہداف ساتھ ساتھ حاصل ہو رہے ہیں۔ ہم اسے جتنا جلدی ممکن ہو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔‘

خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائی گزشتہ برس اکتوبر میں شروع کی گئی تھی اور اس کے دوران میڈیا کو اس کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

پاکستانی فوج محض روزانہ کے جانی نقصان اور لڑائی کی خبریں کرتی رہی ہے اور اس آپریشن کے اختتام کے بارے میں بھی کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

تاہم اب فوجی ترجمان کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اس علاقے سے بھی شدت پسندوں کو بے دخل کر دیا گیا ہے۔

’آپریشن ضربِ عضب ایک منصوبے کے تحت کامیابی سے جاری ہے اور فوج اسے جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشن’آپریشن ضربِ عضب ایک منصوبے کے تحت کامیابی سے جاری ہے اور فوج اسے جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے‘

شوال کی کارروائی کے بارے میں فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں شدت پسندوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

’شوال دہشت گردوں کا گڑھ بن گیا تھا۔ انہیں کافی نقصان پہنچایا ہے اور تھوڑا بہت ہمیں بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ آگے چل کر مزید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ شوال کو صاف کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا، جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ فوج اس علاقے کو مکمل طور پر صاف کرے گی۔

’شمالی وزیرستان کو جو صاف کیا تو شدت پسند یہاں جمع ہوگئے تھے۔ کچھ اور طریقوں سے کام جاری ہے اور شوال اور دتہ خیل کا تمام علاقہ صاف کرنا ہے۔‘

خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائی گزشتہ برس اکتوبر میں شروع کی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی میں فوجی کارروائی گزشتہ برس اکتوبر میں شروع کی گئی تھی

شمالی وزیرستان آپریشن کے آغاز پر افغانستان فرار ہو جانے والے شدت پسندوں کے بارے میں جنرل عاصم نے کہا کہ انہیں باوجود اطلاع کے افغانستان میں نہیں روکا گیا: ’جیسا ہونا چاہیے تھا ویسا انہوں نے نہیں کیا۔ پورا کام نہیں کیا ہے۔‘

بےگھر قبائلیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک جامع منصوبے کے تحت انہیں واپس بھیجنے کے عمل میں جلد تیزی آئے گی۔

’اس سال کے بجٹ میں بھی حکومت نے ان کے لیے رقم مختص کی ہے۔ ہم انہیں اچھے حالات میں واپس بھیجنا چاہتے ہیں۔‘

فوجیوں کے بنوں میں آئی ڈی پیز کے ساتھ تصادم میں ہلاکتوں کے واقعے کے بارے میں ترجمان نے بتایا کہ اس معاملے میں ’کمیٹی بنی، تحقیقات بھی ہوئیں اور اب اس معاملے کو حتمی صورت کی جانب لے جا رہے ہیں۔‘