’خیبر میں 20 دہشت گرد ہلاک‘، آرمی چیف بھی خیبر ایجنسی میں

آرمی چیف نے خیبر ایجنسی کے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآرمی چیف نے خیبر ایجنسی کے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی کے دوران 20 دہشت گرد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے ہیں، جبکہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایجنسی کا دورہ بھی کیا ہے۔

جمعے کو فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں ایک اہم دہشت گرد کمانڈر بھی شامل تھا۔ تاہم بیان میں ان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

حتمی مرحلہ

بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف نے پاک افغان سرحد کے قریبی علاقے جوارو کا پہلی مرتبہ دورہ کیا اور وہاں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائی کے حتمی مراحل میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

آرمی چیف نے وہاں تعینات پاکستانی فوج کے اہلکاروں کے علاوہ قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی۔

تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف نے اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب پاک افغان سرحدی علاقے میں ان کے چند آخری ٹھکانے موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور انھیں دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے اس عزم کو ایک بار پھر دہرایا کہ تمام دہشت گردوں، ان کی معانت کرنے والوں، اعانت کرنے والوں اور انھیں معاشی مدد دینے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

جنرل راحیل شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس علاقے میں دہشت گردوں نے غیر ملکی ساختہ بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں۔

انھوں نے باڑہ میں قائم کیے جانے والے اصلاحی مرکز کا دورہ بھی کیا جہاں ہتھیار ڈالنے والے دہشت گردوں کو تعلیمی اور ووکیشنل تربیت فراہم کی جاتی ہے۔