’سیاسی چیلنجز نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد میں رکاوٹ‘

پاکستان کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ سیاسی مشکلات کی وجہ سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائے جانے والے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طریقے سے عمل درآمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔
روس کے دورے کے دوران مقامی جریدے سپوتنک سے بات چیت میں میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ اس قومی لائحہ عمل کے کچھ حصوں پر عمل شروع ہو چکا ہے اور یہ دہشت گردوں کی مال وسائل کی فراہمی کو روکنے میں موثر ثابت ہو رہا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اس منصوبے کی سب سے بڑی کامیابی قبائلی علاقے میں عملی کارروائی ہے۔ یہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر ہو رہی ہے جس سے دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت یکسر رک چکی ہے۔‘
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کی دوسری جہتوں کو شروع کرنے کی راہ میں سیاسی چیلنج حائل ہیں جن سے نمٹنے کے لیے وقت درکار ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی لائحہ عمل تشکیل دینے کا خیال گذشتہ برس دسمبر میں پشاور میں آرمی سکول پر طالبان کے حملے میں 133 بچوں سمیت 149 افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا تھا۔
اس سلسلے میں 25 دسمبر کو فوجی عدالتوں کے قیام سمیت 20 نکات پر مشتمل ایک لائحہ عمل کی منظوری دی گئی تھی جس پر عمل درآمد جاری ہے۔
اپنے انٹرویو میں فوجی ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان انتہا پسندی مخالف اقدامات کو فروغ دے رہا ہے جس کا اہم ہدف ملک کی نوجوان نسل ہے کیونکہ دہشت گرد انھیں اپنے مقاصد کے حصول کےلیے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔
مئی میں کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں بنیاد پرست نوجوانوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کے ذہنوں سے بنیاد پرستی پر مبنی خیالات کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں اور ملک میں بنیاد پرستی کی ترویج روکنے کے لیے شروع کیے جانے والے پائلٹ پروگراموں کو قومی سطح تک پھیلا دیا گیا ہے۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا ’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستان کے سارے نوجوان بنیاد پرست ہیں اور انتہاپسندی میں ملوث ہیں۔‘
آئی ایس پی آر کے سربراہ نےکہا کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک نہیں ہے جہاں نوجوانوں کے بنیاد پرست ہو جانے کا معاملہ موجود ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی کوششیں درکار ہیں۔







