’تیراہ میں فورسز سے جھڑپ میں پانچ دہشت گرد ہلاک‘

پاکستانی فوج اس علاقے میں خیبر ون اور خیبر ٹو کے نام سے کارروائیاں کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج اس علاقے میں خیبر ون اور خیبر ٹو کے نام سے کارروائیاں کر رہی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے ایک جھڑپ کے دوران پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سرکاری ریڈیو نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ خیبر ایجنسی کی وادیِ تیراہ میں اتوار کی صبح فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم ازکم پانچ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی میں تین سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے جنھیں سی ایم ایچ پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے آپریشن خیبر ون اور خیبر ٹو کے نام سے شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان کاروائیوں کے دوران ایجنسی کے بیشتر مقامات کو شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی تین سب ڈویژنوں باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل پر مشتمل ہے اور یہاں گذشتہ سال اکتوبر میں باقاعدہ فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے بھی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری تھیں۔

اس فوجی آپریشن اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے مختلف علاقوں سے لوگ بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔

رواں ماہ کے آغاز پر حکومتِ پاکستان نے اقوام متحدہ کے تعاون سے قبائلی علاقوں میں شدت پسندی سے متاثرہ 20 لاکھ بےگھر افراد کی واپسی کے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت سنہ 2016 کے اختتام تک سب کو واپس بھیج دیا جائے گا۔