’2016 تک قبائلی علاقوں کے متاثرین کی واپسی مکمل ہو جائے گی‘

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کے تعاون سے قبائلی علاقوں میں شدت پسندی سے متاثرہ 20 لاکھ بےگھر افراد کی واپسی کے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت سنہ 2016 کے اختتام تک سب کو واپس بھیج دیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی صورت میں یہ قبائلی علاقوں کو 2001 کی حالت تک واپس لے آئے گا۔
اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں حکومت نے امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کےسفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے سامنے متاثرین کی واپسی کا منصوبہ پیش کیا۔
حکام کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تمام قبائلیوں کی پائیدار واپسی اور بحالی کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس پر عمل درآمد سویلین حکام، فاٹا سیکریٹریٹ، وفاقی حکومت اور مسلح افواج مل کر کریں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ دو برسوں میں بحالی کے اس منصوبے کے لیے 20 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس منصوبے کے پانچ اہم نکات ہیں۔ ان میں انفراسٹرکچر، قانون کا نفاذ، حکومت کی خدمات میں بہتری، مقامی معیشت کی بحالی اور سماجی ہم آہنگی پیدا کرنا شامل ہے۔
حکام پرامید ہیں کہ آئندہ چند ماہ میں قبائلی علاقوں کے 75 فیصد علاقوں پر حکومتی عمل داری قائم ہو جائے گی۔ وفاقی وزیر برائے شمالی علاقہ جات قادر بلوچ نے اس موقعے پر اپنے خطاب میں کہا کہ کہ قبائلی علاقے محض پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام دنیا کا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے ایک زندہ دستاویز ہے، جس میں وقت اور حالات کو مدِنظر رکھ تبدیلیاں کی جاتی رہیں گی۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ یہ علاقے دہشت گردی کا گڑھ بن چکے تھے۔ قادر بلوچ نے کہا کہ ’ان علاقوں میں دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ تیار کرنے اور اغوا برائے تاوان کا کاروبار عروج پر تھا۔ ہمیں معیشت کو بحال کرنے کے لیے ایسے کاروبار ختم کرنا ہوں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قادر بلوچ کا کہنا تھا کہ انھیں مقامی قبائلیوں کو اُن کے علاقے میں خوشی خوشی واپس بھیجنا ہو گا۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی صورت میں یہ علاقے دہشت گردی کی دلدل سے واپس نکل کر اپنی پہلی حالت میں واپس آ جائیں گے۔ جس کے بعد پانچ چھ برسوں میں شاید یہاں آئینی اور قانونی اصلاحات متعارف کروائی جا سکیں گی۔
قبائلی علاقوں کے منتظم اعلیٰ گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے کانفرنس میں موجود مغربی سفارت کاروں اور اہلکاروں کو یقین دلایا کہ بہترین طریقہ کار کے ذریعے وسائل کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔
ان کا بھی کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کی غلطیوں کا نتیجہ ہے اور قبائلیوں نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور اب انھیں بحالی میں مدد کی ضرورت ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں اس امید کا اظہار کیا کہ قبائلیوں کو اب دوبارہ گھر بار چھوڑنے کی ضرورت نہیں پڑےگی۔ دولت اسلامیہ کے قبائلی علاقوں میں موجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نام تبدیل کر کے بھی کام کرنے والوں کو بھی چھوڑا نہیں جائے گا۔
اقوام متحدہ کی ریزیڈنٹ کواڈینٹیٹر ڈاکٹر جیکی بیڈاک نے اعلیٰ ادارے کی جانب سے اس منصوبے کے لیے مکمل تعاون اور امداد کی یقین دہانی کروائی۔







