متاثرین کی نو ماہ بعد گھروں کو واپسی

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی واپسی کا عمل جاری ہے۔( بلال احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام)
،تصویر کا کیپشنقبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی واپسی کا عمل جاری ہے۔( بلال احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام)
پہلے مرحلے میں منگل کو خیبر پختونخوا کے شہر بنوں سے شامیری قبائل کے ارکان واپس روانہ ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپہلے مرحلے میں منگل کو خیبر پختونخوا کے شہر بنوں سے شامیری قبائل کے ارکان واپس روانہ ہوئے ہیں۔
بنوں سے پہلے دن 62 سے زیادہ خاندانوں کے 219 افراد اپنے آبائی علاقوں کو واپس گئے ہیں اور انھیں فوج کی نگرانی میں روانہ کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبنوں سے پہلے دن 62 سے زیادہ خاندانوں کے 219 افراد اپنے آبائی علاقوں کو واپس گئے ہیں اور انھیں فوج کی نگرانی میں روانہ کیا گیا ہے۔
واپس جانے والے ہر خاندان کو 35 ہزار روپے اور ایک ماہ کا راشن بھی دیا جا رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنواپس جانے والے ہر خاندان کو 35 ہزار روپے اور ایک ماہ کا راشن بھی دیا جا رہا ہے۔
متاثرین کی بڑی تعداد ضلع بنوں میں کیمپوں میں مقیم ہے۔ ان متاثرین کے لیے واپسی کے اعلانات پہلے بھی کیے گئے تھے لیکن ان پر عمل نہیں ہو سکا تھا۔
،تصویر کا کیپشنمتاثرین کی بڑی تعداد ضلع بنوں میں کیمپوں میں مقیم ہے۔ ان متاثرین کے لیے واپسی کے اعلانات پہلے بھی کیے گئے تھے لیکن ان پر عمل نہیں ہو سکا تھا۔
متاثرین کی شمالی وزیرستان واپسی سے قبل حکومت کی جانب سے ایک سماجی معاہدہ کیا ہے جس میں میں کہا گیا ہے کہ مقامی رسم و رواج اور قبائلی علاقوں کے قانون ایف سی آر کے علاوہ آئین پاکستان کے بھی پابند ہوں گے۔
،تصویر کا کیپشنمتاثرین کی شمالی وزیرستان واپسی سے قبل حکومت کی جانب سے ایک سماجی معاہدہ کیا ہے جس میں میں کہا گیا ہے کہ مقامی رسم و رواج اور قبائلی علاقوں کے قانون ایف سی آر کے علاوہ آئین پاکستان کے بھی پابند ہوں گے۔
شمالی وزیرستان سے تقریباً دس لاکھ متاثرین نقل مکانی کر کے ملک کے مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان سے تقریباً دس لاکھ متاثرین نقل مکانی کر کے ملک کے مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔