شمالی وزیرستان متاثرین کی واپسی کا طویل منصوبہ

آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے لاکھوں متاثرین کی واپسی کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنآپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے لاکھوں متاثرین کی واپسی کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، میرعلی، شمالی وزیرستان

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال جون میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے تقریباً دس لاکھ سے زائد متاثرین کی واپسی کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے تاہم حکومت کی طرف سے تمام متاثرین کی واپسی کو ایک سال کے طویل عرصے میں مکمل کرنے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔

منگل کو شمالی وزیرستان کے متاثرین کیمپ بکاخیل سے سپین وام تحصیل کے گاؤں شامری کے 62 خاندانوں پر مشتمل 219 افراد کےایک قافلے کو فوج کی سخت حفاظت میں ان کے گھروں کی جانب روانہ کیا گیا۔ اس قافلے کی کوریج کرنے کےلیے مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی ایک ٹیم کو بھی شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی تک جانے کی اجازت دی گئی۔

شمالی وزیرستان کے بے گھر افراد واپسی کے عمل کا آغاز ہوجانے پر انتہائی خوش نظر آرہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان کے بے گھر افراد واپسی کے عمل کا آغاز ہوجانے پر انتہائی خوش نظر آرہے ہیں

صحافیوں کا قافلہ جب صبح کے وقت بکاخیل سے میرعلی کی جانب روانہ ہوا تو سڑک کے دونوں جانب فوج، ایف سی اور خاصہ دار فورس کے اہلکار بھاری اور ہلکا اسلحہ ہاتھوں میں لیے مستعد نظر آئے۔

بکاخیل سے کھجوری چیک پوسٹ تک، جہاں سے شمالی وزیرستان کی حدود کا آغاز ہوتا ہے، وہاں تک پکی اور قدرے کشادہ سڑک بنائی گئی ہے اور راستے میں چند مقامات پر نئے تعمیر شدہ پل بھی نظر آئے تاہم اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں تباہ شدہ مکانات بھی دکھائی دیے جو بظاہر لگتا تھا کہ یا تو بم دھماکوں یا بمباریوں میں تباہ کیے گئے ہیں۔

میرعلی تحصیل کی حدود میں داخل ہوئے تو وہاں دور دور تک فوجی اہلکاروں کے علاوہ اور کوئی نظر نہیں آیا۔ صحافیوں کو وہاں بنائے گئے پوائنٹ سے اگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

شمالی وزیرستان کے دو اہم علاقے اور تجارتی مراکز میرعلی اور میران شاہ میں آپریشن ضرب عضب کے دوران بڑی بڑی کارروائیاں کی گئیں جس کی وجہ سے ان علاقوں سے سو فیصد نقل مکانی ہوئی تھی۔ تاہم اب واپسی کا عمل سپین وام تحصیل سے شروع کیا گیا ہے جہاں مقامی افراد کے مطابق باقاعدہ آپریشن نہیں ہوا تھا جس پر بعض متاثرین کی جانب سے شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔

شمالی وزیرستان کی سرحد کی قریب کھجوری چیک پوسٹ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان کی سرحد کی قریب کھجوری چیک پوسٹ

زیادہ تر متاثرین کا موقف ہے کہ حکومت کو پہلے ان علاقوں کے افراد کو بھیج دینا چاہیے تھا جہاں سے سو فیصد نقل مکانی ہو چکی ہے جن میں میرعلی، میران شاہ اور دتہ خیل کے چند مقامات شامل ہیں۔ تاہم اس کے باوجود شمالی وزیرستان کے بے گھر افراد واپسی کے عمل کا آغاز ہوجانے پر انتہائی خوش نظر آرہے ہیں۔

تحصیل سپین وام کے ایک باشندے صابر شاہ کا کہنا ہے کہ جب سے انھیں اپنے علاقے میں واپس جانے کا کہا گیا ہے اس کے بعد سے ان کے گھر میں ایک جشن جیسا سماں ہے۔ انہوں نےکہا کہ ’وہ دن میں نہیں بھول سکتا جب میں اور میرے خاندان نے شدید گرمی کے موسم میں بے سروسامانی کے عالم میں گھر بار چھوڑا اور پھر شدید سردی اور بارشوں کا موسم بھی متاثرین کیمپوں میں برداشت کیا۔‘

ان کے مطابق: ’یہ خوشی اب عارضٰی نہیں ہونی چاہیے بلکہ پائیدار امن کی صورت میں تمام وزیرستانیوں کے مرجھائے ہوئے چہروں پر دوبارہ خوشیاں واپس آ سکتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں اندازہ ہے کہ وزیرستان میں تباہی کے باعث مشکلات ضرور ہوں گی لیکن یہاں بھی مسائل کم نہیں ایسے میں اس سے بہتر ہے کہ اپنے وطن میں تو رہیں۔

ادھر دوسری طرف حکومت کی طرف سے شمالی وزیرستان کے تمام متاثرین کی واپسی کا عمل ایک سال کے طویل عرصہ میں مکمل کرنے کے اعلان پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔

میر علی کے ڈگری کالج پر بھی فوج کا پہرا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمیر علی کے ڈگری کالج پر بھی فوج کا پہرا ہے

وزیرستان کے نمائندہ جرگہ کے ایک قبائلی مشر نثار علی خان نے بتایا کہ متاثرین کی واپسی قبائل کا سب سے پہلا اور بڑا مطالبہ تھا۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ واپسی کے عمل کو زیادہ طویل عرصہ تک جاری نہ رکھا جائے ورنہ اس سے غلط فہمیاں پیدا ہوں گی جس سے حکومت ہی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کا کام اس وقت تک بہتر طریقے سے نہیں ہو سکتا جب تک وہاں مقامی افراد موجود نہ ہوں۔

شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی تو شروع ہوگئی ہے لیکن اپنے پیچھے وہ یہ سوال ضرور چھوڑے جا رہے ہیں کہ ان علاقوں میں حکومت نے کیا کوئی انتظامی ڈھانچہ کھڑا کیا یا صرف شدت پسندوں کی بےدخلی اس کارروائی کا واحد ہدف تھا؟