’ایسا کہیں نہیں کہ عوام اہلکاروں کا تحفظ کریں‘

شمالی وزیرستان کے ان متاثرین کی واپسی کے لیے اب 31 مارچ کا اعلان کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان کے ان متاثرین کی واپسی کے لیے اب 31 مارچ کا اعلان کیا گیا ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’ہم اپنے آباؤ اجداد کے وقت کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں لیکن ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی زمہ داری ہے لیکن یہاں ہم سے کہا جا رہا ہے کہ آب تمام اداروں کے اہلکاروں کو تحفظ فراہم کریں یہ کہاں کا انصاف ہے۔‘

یہ الفاظ ہیں شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنماؤں کے جو حکومت کی جانب سے جاری سماجی معاہدے کے مخالف ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی کے متاثرین کی واپسی سے چند روز پہلے حکومت نے سماجی معاہدے کے نام سے قبائلیوں کے لیے شرائط رکھی ہیں جس پر شمالی وزیرستان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دنیا کے لیے ایک قانون اور ہمارے لیے تین قانون مرتب کیے گئے ہیں جس پر وہ عمل درآمد نہیں کر سکتے۔

سماجی معاہدہ سال 2015 کو پولیٹکل ایجنٹ نے گورنر خیبر پختونخوا کے نمائندے کے طور پر جاری کیا ہے۔

اس معاہدے کے پہلے حصے میں حکومتی زمہ داریاں ہیں جن میں قبائل کے حقوق انھیں سیاسی معاشرتی آزادی اور ان کے علاقوں میں ترقیاتی کام کرنے جیسے وعدے کیے گئے ہیں۔

دوسرے حصے میں قبائل کی 17 ذمہ داریاں بھی شامل۔

ان میں کہا گیا ہے کہ قبائلی آئین پاکستان، قبائلی علاقوں کے قانون ایف سی آر اور اس کے علاوہ مقامی رسم و رواج کے پابند ہوں گے۔

سرکاری اداروں کو تحفظ فراہم کرنا مقامی اقوام کی ذمہ داری ہوگی اور اس میں ناکامی پر اقوام کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مقامی اقوام اتمانزئی وزیر داوڑ، سیدگئی خرسین اپنے اپنے علاقوں میں آئینی اداروں کے دشمن، غیر ملکی دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیں گے اور نہ ہی انھیں اپنے علاقے می کسی قسم کی کارروائی کرنے دیں گے۔

مدارس میں دینی تعلیم ہوگی اور اگر اس میں غفلت ہوئی تو قوم کے خلاف کارروائی ہوگی۔ قبائلی رہنما مقامی سطح پر لشکر ترتیب دیں گے جو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کریں گے۔

شمالی وزیرستان میں گدشتہ سال جون سے فوجی آپریشن جاری ہے
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان میں گدشتہ سال جون سے فوجی آپریشن جاری ہے

اس سماجی معاہدے میں دیگر شرائط بھی ہیں جن پر شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنماؤں نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان شرائط پر عمل درآمد ہو ہی نہیں سکتا۔

ملک غلام خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سلسلے میں وہ حکومت سے رابطہ کر رہے ہیں لیکن اب تک نہ تو سکیورٹی اداروں اور نہ ہی پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے ان سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ان کی پاس نہ اسلحہ ہے اور اں ہی وہ اتنے طاقتور ہیں کہ ان قوتوں سے مقابلہ کر سکیں یا ان کے خلاف لشکر بنا سکیں۔

ملک غلام خان نے کہا کہ ہمارا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے ایسا تو دنیا میں کہیں نہیں ہے کہ عوام حکومتی اہلکاروں کا تحفظ کرے۔

شمالی وزیرستان سے تقریباً دس لاکھ کے قریب عام شہریوں نے نقل مکانی کی

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان سے تقریباً دس لاکھ کے قریب عام شہریوں نے نقل مکانی کی

دواڑ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملک ناصر علی خان نے کہا کہ ان پر کوئی بھی ایک قانون نافذ کیا جائے، چاہے وہ آئین پاکستان کے تحت ہو یا ایف سی آر کا ہو اور یا مقامی رسم و رواج کے تحت ان کے لیے ضابطہ تیار کیا جائے لیکن ایک ہی وقت میں تینوں قوانین پر عملدرآمد ان کے لیے مشکل ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ امن پسند لوگ ہیں اور چاہتے ہیں کہ علاقے میں امن ہو اور جہاں تک بات ہے غیر ملکیوں کو پناہ دینے کی وہ انھوں نے پہلے بھی نہیں دی تھی جن لوگوں نے دی تھی سب کو معلوم ہے ۔

شمالی وزیرستان سے تقریباً دس لاکھ متاثرین نقل مکانی کرکے مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان پناہ گزینوں کی بڑی خیمہ بستیاں بنوں شہر میں ہیں۔

شمالی وزیرستان کے ان متاثرین کی واپسی کے لیے اب 31 مارچ کا اعلان کیا گیا ہے جس کے لیے پہلے سے رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔