آئی ڈی پیز کی کل تعداد 20 لاکھ تک ہے: قادر بلوچ

آپریشن کے باعیث نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیز کی تعداد 20 لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآپریشن کے باعیث نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیز کی تعداد 20 لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی تعداد تقریباً 20 لاکھ ہے جن میں سے 15 لاکھ رجسٹرڈ ہیں۔

یہ بات پاکستان کے سرحدی امور کے وفاقی وزیر ریٹائرڈ جنرل قادر بلوچ نے جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔

انھوں نے بتایا کہ ’ 15 لاکھ کے قریب رجسٹرڈ آئی ڈی پیز ہیں جن میں سے 6 لاکھ آئی ڈی پیز کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے، سات آٹھ لاکھ ایسے ہی جنھوں نے خود کو رجسٹرڈ نہیں کروایا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ غیر رجسٹرڈ متاثرین کہاں ہیں تو ان کا جواب تھا کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں ملک کے کسی بھی حصے میں جا سکتے ہیں لیکن بطور وزیر وہ ان لوگوں کے لیے فکر مند ہیں جنھیں تکلیف ہے۔

جنرل(ر) قادر بلوچ کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کا 90 فیصد علاقہ دہشت گردوں سے پاک ہو گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کسی بھی فوجی آپریشن میں علاقے کی سرحد ہوتی ہے اور زمین کا قبضہ حاصل کرنا ہوتا ہے تاہم یہاں زمین نہیں لوگ (دہشت گرد) ہیں۔

سرحدی امور کے وفاقی وزیر نے بتایا کہ سوات اور شمالی وزیرستان کی زمینی صورتحال مختلف ہے اور سوات کی نسبت وہاں طالبان زیادہ مضبوط ہو چکے تھے۔

’سوات آپریشن میں بھی چھ سے سات مہینے لگے تھے، سوات کے مقابلے میں یہ علاقہ مشکل ہے، اس وقت طالبان کی تنظیم کی ابتدا تھی لیکن اس وقت دس سال کا تجربہ تھا ان کے پاس اور کروڑوں میں ان کے فنڈ تھے جو اب کہیں پڑے ہوں گے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ طالبان کی تنظیم عالمی سطح کی تنظیم بن چکی تھی اور پوری دنیا سے ان کو پیسے مل رہے تھے اور پولیس اور ایف سی سے زیادہ جدید ہتھیار ان کے پاس تھے۔

آئی ڈی پیز کے مسائل کے حل کے لیے متوقع طور پر 22 نومبر کو بلوائے گئے سیاسی جرگے کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ توقع ہے کہ جرگے سے حکومت کو کارکردگی بہتر کرنے میں مدد ملے گی تاہم انھوں نے تجویز دی کہ آئی ڈی پیز کے مسائل کے حل کے لیےحکومت کی کوششوں کو بھی دیکھا جائے۔