افغانستان میں پاکستانی پناہ گزینوں کی تعداد کیا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق اس کے 29 ہزار شہری افعانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں تاہم افغان حکومت کے مطابق یہ تعداد دو لاکھ ہے۔
اسلام آباد میں گذشتہ روز جمعرات کو دفتر خارجہ کی ترجمان سے جب آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں سرحد پار افغانستان میں پناہ لینے والے پاکستانیوں کے اعداد و شمار سے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ابتدا میں یہ تعداد 67 ہزار 120 تھی جو اب کم ہو کر 29 ہزار 120 رہ گئی ہے۔
’38 ہزار سے زائد پاکستانی آپریشن ضرب عضب کے آغاز سے بعد ایک ہفتے کے اندر وطن واپس لوٹ آئے تھے، دیگر ملکیت کے بغیر حقِ رہائش اور اپنے عزیر واقارب کی وجہ سے وہاں اب بھی موجود ہیں۔‘
کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سید انور نے افغان حکومت کے حوالے سے بتایا کہ افغان صوبے خوست میں 25 ہزار 387 ایسے پاکستانی خاندان موجود ہیں جو شمالی وزیرستان سے ہجرت کر کے یہاں پہنچے ہیں جبکہ صوبہ پکتیکا میں موجود پاکستانی خاندانوں کی تعداد ساڑھے بارہ ہزار بتائی جاتی ہے اور حکام کے مطابق یہ تعداد لگ بھگ 2 لاکھ افراد کے قریب ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جانب سے ان کی ویب سائٹ پر جاری کردہ رپوٹس اور اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کے صوبہ خوست اور پکتیکا میں ہجرت کر کے آنے والے پاکستانی خاندانوں کی رجسٹرڈ تعداد 54 ہزار 80 ہے اور یہ وہاں اس وقت کیمپوں اور اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہے۔
اکتوبر 2014 کو خوست اور پکتیکا میں پاکستانی پناہ گزینوں کی تعداد پر اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ ’اگرچہ جون کے وسط میں یہ اندازہ تھا کہ 13 ہزار پاکستانی خاندان شمالی وزیرستان سے منتقل ہوں گے تاہم گذشتہ مہینوں میں جب بہت سے ادارے ان پناہ گزینوں کی واپسی کی توقع کر رہے تھے ایسے میں ان کی تعداد میں فوجی آپریشن میں توسیع کی وجہ سے مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ‘
یکم اکتوبر کو یو این ایچ سی آر نے بتایا کہ 30 ہزار 112 خاندان رجسٹرڈ ہوئے جبکہ 15 اکتوبر کو رجسٹرڈ خاندانوں کی تعداد 33 ہزار بتائی گئی۔
ان خاندانوں میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے مقامی افراد شامل ہیں جن میں سے 80 فیصد سے زائد اپنے رشتے داروں کے ہمراہ جبکہ دیگر بین الاقوامی امدادی اداروں کی معاونت سے قائم کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امدادی اداروں کے مطابق افغانستان کے ان دونوں صوبوں میں موسم سرما میں سردی کی شدت جنوبی وزیرستان سے کہیں زیادہ ہے ۔ یہ ادارے پناہ گزینوں کے لیے سرد موسم سے بچنے کے لیے ضروریات زندگی کے علاوہ بچوں کی تعلیم کے لیے بھی فکرمند ہیں اور آئندہ سال یعنی 2015 کے لیے جامع منصوبہ بندی اور لائحہ عمل تیار کر رہی ہیں۔
ستمبر کے آغاز میں افغان حکومت نے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں سرحد پار کر کے افغان علاقوں میں پناہ لینے والے پاکستانی متاثرین بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے 80 کے قریب سکول کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل جولائی میں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے بی بی سی کو دیےگئے انٹرویو میں کہا تھا کہ افغان حکومت کی جانب سے شمالی وزیرستان کے قبائل کو اپنے ہاں ہجرت پر آمادہ کرنے کے لیے مالی وسائل سمیت مختلف سہولیات کی فراہمی کی پرکشش ترغیبات دینا ہمارے معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہے۔
جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے پریس بریفنگ میں حکومت پاکستان کی جانب سے اس بات پر مسرت کا اظہار بھی کیا کہ افغانستان اتنی بڑی تعداد میں موجود پاکستانیوں مدد کر رہا ہے۔
اس موقع پر دفتر خارجہ کی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے پناہ گزینوں کے عالمی ادارے یو این ایچ سی آر عالمی برادری اور افغان حکومت سے کہا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں آباد افغان مہاجرین کی واپسی کا لائحہ عمل تیار کریں۔
انھوں نے بتایا کہ افغان مہاجرین کی پاکستان میں سکونت کا معاہدہ 2015 میں ختم ہوجائے گا۔
شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے سے پہلے مقامی طالبان کے ایک گروپ نے لوگوں کو ہدایت کی تھی کہ آپریشن کی صورت میں وہ پاکستانی علاقوں کی بجائے افغانستان کی جانب نقل مکانی کریں۔







