نقل مکانی کرنے والے بچوں کے لیے سکول

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے طلبا اور طالبات کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد قریبی سکولوں اور کالجوں میں تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
صوبے کے جنوبی اضلاع میں پندرہ سو سے زیادہ سکولوں میں اس وقت شمالی وزیرستان کے متاثرہ افراد رہائش پزیر ہیں جنھیں کہا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد سکولوں کی عمارتیں خالی کر دیں تاکہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد وہاں بچوں کا تعلیمی سلسلہ شروع ہو سکے۔
صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں بچوں اور بچیوں کو اِن تعلیمی اداروں میں تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور اس کے لیے کوششیں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ متاثرہ طلبا اور طالبات کے علاوہ وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے اساتذہ سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس علاقے میں کتنے بچے اور کتنے اساتذہ موجود ہیں۔
عاطف خان کے مطابق جن سکولوں میں جگہ ہوگی متاثرہ بچوں کو ان سکولوں میں تعلیم فراہم کی جائے گی اور جہاں جگہ نہیں ہوگی وہاں ان سکولوں میں خیموں سے کلاس رومز بنائے جائیں گے اور اگر زیادہ ضرورت محسوس ہوئی تو علیحدہ عمارتیں کرائے پر بھی حاصل کی جائیں گی۔
شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں تقریباً دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جن میں ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ بچے اور پونے تین لاکھ سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔
فاٹا میں قدری آفات سے نمٹنے کے ادارے، ایف ڈی ایم اے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار میں یہ ذکر کہیں نہیں ہے کہ ان میں کتنے طلبا و طالبات ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جن سکولوں میں متاثرہ افراد مقیم ہیں ان میں اب مرمت کی ضرورت ہوگی کیونکہ ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسی صورتحال کے بعد اکثر سکولوں میں فرنیچر اور عمارت کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر تعلیم کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ سکول بنوں میں متاثرہ افراد کے زیر استعمال ہیں جبکہ دیگر شہروں جیسے لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور کرک میں بھی بڑی تعداد میں متاثرہ افراد سکولوں میں رہائش پزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں شمالی وزیرستان کے متاثرہ طلبا اور طالبات کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے علاوہ دیگر تنظیمیوں کی معاونت حاصل ہے ۔







