پشاور میں مقیم فاٹا متاثرین مساوی مدد کے طالب

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پشاور میں گذشتہ دو مہینوں سے احتجاجی کیمپوں میں مقیم فاٹا سے بے گھر ہونے والے متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں بھی شمالی وزیرستان کے متاثرین کے برابر خصوصی پیکیج دیا جائے کیونکہ وہ بھی حکومت ہی کے کہنے پر گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
یہ احتجاجی کیمپ پشاور پریس کلب کی عمارت کے قریب قائم کیا گیا ہے جہاں قبائلی ایجنسیوں کے وہ متاثرین احتجاج کر رہے ہیں جو جلوزئی پناہ گزین کیمپ میں مقیم ہیں۔
کیمپ میں موجود متاثرین کا روز کا معمول ہے کہ وہ صبح سویرے آ کر خیمے لگاتے ہیں اور پھر شام تک یہاں بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ سلسلہ پچھلے دو ماہ سے جاری ہے۔
کیمپ میں موجود تحریکِ متاثرینِ فاٹا کے چیئرمین اقبال آفریدی نے کہا کہ خیبر ایجنسی، باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں سے اس وقت ہزاروں افراد بے گھر ہوکر پناہ گزین کیمپوں یا اپنے طور پر کرائے کے مکانات میں رہائش پذیر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان متاثرین کو یو این ایچ سی آر اور حکومت کی طرف سے جو خوراک دی جا رہی ہے وہ کھانے کے قابل نہیں لیکن متاثرین مجبوراً کھانے پر مجبور ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے حالانکہ وہ بھی پناہ گزین ہیں اور حکومت ہی کے کہنے پر بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔
اقبال آفریدی کے مطابق شمالی وزیرستان کے متاثرین کو زیادہ سہولیات دی گئی ہیں اور ان کو نقد رقوم بھی دی جا رہی ہے اور گھروں کے کرائے بھی دیے جا رہے ہیں لیکن فاٹا کے دیگر علاقوں کے افراد کو ان کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان مطالبات تسلیم نہ کیے تو متاثرین عید الضحٰی بھی گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کر کے منائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیمپ میں موجود باڑہ خیبر ایجنسی کے ایک بے گھر شخص مراد خان نے کہا کہ وہ گذشتہ چھ سالوں سے اپنے آبائی علاقے نہیں جا سکے اور آج کل پشاور میں کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہنے پر مجبور ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ باڑہ میں دو کروڑ روپے کے عالیشان مکان میں رہا کرتے تھے لیکن اب ان کی معاشی مجبوریاں اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب انھیں اپنے تمام بچوں کو پرائیوٹ سکولوں سے اٹھا کر سرکاری سکولوں میں داخل کروانا پڑا ہے۔
اقبال آفریدی کے بقول: ’قبائلی حکومت سے اتنے مایوس ہو چکے ہیں کہ اب وہ اس بات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ پاکستان سے الگ ہوکر افغانستان سے الحاق کر کے اس کے ساتھ شامل ہو جائیں۔‘
خیال رہے کہ قبائلی علاقوں باجوڑ، مہمند اور خیبر ایجنسی میں پانچ اور چھ سال پہلے ہونے والے فوجی کارروائیوں کے وجہ سے ہزاروں افراد نے بے گھر ہو کر جلوزئی پناہ گزین کیمپ میں پناہ لے رکھی تھی۔ تاہم باجوڑ اور مہمند ایجنسی کے بیشتر متاثرین واپس اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں لیکن کچھ علاقوں میں کشیدگی کے باعث وہاں کے متاثرین بدستور جلوزئی مہاجر کیمپ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
خیبر ایجنسی میں بھی کشیدگی کے باعث وہاں کے اکثر بے گھر افراد بدستور جلوزئی کیمپ میں پناہ گزین ہیں۔







