خیبر ایجنسی میں دھماکہ: دو سکیورٹی اہلکار ہلاک

خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن خیبر ٹو بھی جاری ہے
،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن خیبر ٹو بھی جاری ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک حملے میں کم سے کم فوج کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بدھ کو خیبر ایجنسی کے علاقے تحصیل باڑہ میں نری بابا کے مقام پر پیش آیا۔

سرکاری اہلکاروں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار گشت کررہے تھے کہ اس دوران سڑک کے کنارے نصب بارودی سرنگ کا ایک دھماکہ ہوا جس سے وہاں موجود دو اہلکار ہلاک ہوئے۔

تاہم پشاور میں فوج کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے اس واقعے میں ایک فوجی اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ نری بابا باڑہ تحصیل کا ایک دور افتادہ علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں سپاہ قبیلے کے افراد آباد ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں گزشتہ چند مہینوں سے سکیورٹی فورسز کی طرف سے آپریشن خیبر ون اور خیبر ٹو کے نام سے شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان کاروائیوں کے دوران ایجنسی کے بیشتر مقامات کو شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔ تاہم دور افتادہ وادی تیراہ اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں بدستور جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

چند دن پہلے فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجرجنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا تھا کہ آپریشن خیبر ٹو کے دوران قبائلی علاقے کا مزید علاقہ دہشت گردوں سے صاف کر دیا گیا ہے اور پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب کارروائیاں جاری ہیں جن میں دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

حکام کے مطابق دہشت گرد اب خیبر ایجنسی میں اپنے ٹھکانوں سے افغان سرحد کی جانب فرار ہو رہے ہیں اور ان کے مکمل خاتمے تک آپریشن پوری طاقت سےجاری رہے گا۔

اس سے پہلے حکومت کی جانب سے باڑہ کے زیادہ تر علاقے صاف قرار دیے گئے تھے جس کے بعد کچھ علاقوں کی جانب بے گھر افراد کی واپسی کا عمل بھی شروع کیا گیا تھا جو بدستور جاری ہے۔