یونیورسٹی پر حملے میں 20 ہلاکتیں، قومی سوگ کا اعلان

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر بدھ کی صبح مسلح شدت پسندوں کے حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فوج کے آپریشن میں چار دہشت گرد بھی مارے گئے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس موقعے پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

وزیراعظم نے چارسدہ حملے کے بعد آرمی چیف کو ٹیلی فون کر کے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائےگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم دہشت گردی کے ساتھ جنگ میں ہمارے ساتھ ہے۔

انھوں نے علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے حملے کے بعد فوج کے فوری ردِ عمل کی تعریف کی۔

<link type="page"><caption> باچا خان یونیورسٹی پر حملہ تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2016/01/160120_bacha_khan_uni_attack_gallery_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

ادھر بدھ کی شام فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ، آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کور ہیڈ کواٹر پشاور میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرِ صدارت سپیشل سکیورٹی کانفرنس ہو رہی ہے جس میں خفیہ اداروں کے حکام بھی موجود ہیں۔

بتایا گیا کہ ہے کہ اس کانفرنس میں شرکا کو بریفنگ دی جا رہی ہے۔

بدھ کی صبح شروع ہونے والے حملے کے بعد سے جاری آپریشن کے خاتمے کا اعلان صوبائی گورنر مہتاب خان عباسی نے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد کیا۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بتایا تھا کہ اس حملے میں 20 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے ایک پروفیسر اور متعدد طلبہ بھی شامل ہیں۔

 کور کمانڈر پشاور ذاتی طور پر آپریشن کی نگرانی کرتے رہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن کور کمانڈر پشاور ذاتی طور پر آپریشن کی نگرانی کرتے رہے

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان کی جانب سے یونیورسٹی پر حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے تاہم ایک اور طالبان رہنما خلیفہ عمر منصور نے بی بی سی اردو کو ٹیلیفون کر کے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ تحریک طالبان درہ آدم خیل و پشاور نے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور سکول حملہ فوج جبکہ یہ حملہ ملک کی سیاسی قیادت کو پیغام دینے کی غرض سے کیا گیا۔

گورنر مہتاب خان عباسی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے فورینسک ٹیسٹ کیا جائے گا تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور مقامی افراد ہی تھے۔

مہتاب خان عباسی کے مطابق یونیورسٹی کے اندر 54 پولیس اہلکار تعینات تھے اور اس کے علاوہ یونیورسٹی کے سکیورٹی گارڈز بھی موجود تھے اور ان اہلکاروں کی جانب سے بروقت جوابی کارروائی کی وجہ سے دہشت گردوں کو گھیر لیا گیا۔

ہلاک ہونے والوں میں یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے ایک پروفیسر اور متعدد طلبا بھی شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں میں یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے ایک پروفیسر اور متعدد طلبا بھی شامل ہیں

پاکستانی فوج کے مطابق کارروائی کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ یونیورسٹی کی عمارت پر اب فوج کا کنٹرول ہے۔

چارسدہ کے ڈی آئی جی سعید خان وزیر کے مطابق حملہ آور خودکش جیکٹیں پہنے ہوئے تھے تاہم دو حملہ آوروں کی خودکش جیکٹیں نہیں پھٹیں۔

،تصویر کا ذریعہepa

انھوں نے بتایا ہے کہ حملہ آور دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صبح نو بجے کے قریب یونیورسٹی کے عقبی حصے سے احاطے میں داخل ہوئے تھے۔

پی ٹی وی کے مطابق حملے کے نتیجے میں اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد یونیورسٹی کی عمارت میں محصور ہوگئی تھی۔

ایک عینی شاہد طالبعلم نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ حملہ آور یونیورسٹی کے عقب میں واقع گیسٹ ہاؤس کی جانب سے داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کر دی۔

حملے کے نتیجے میں اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد یونیورسٹی کی عمارت میں محصور ہوگئی تھی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحملے کے نتیجے میں اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد یونیورسٹی کی عمارت میں محصور ہوگئی تھی

ان کا کہنا تھا کہ ہاسٹل کی جانب فائرنگ کے بعد طلبا اور اساتذہ کو یونیورسٹی کے ایک دیگر دروازے سے باہر نکالا گیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے حملے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کر دیا جائے اور ملک کے لیے جان دینے والوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔

باچا خان یونیورسٹی چارسدہ شہر کے مضافات میں واقع ہے۔ جس وقت یونیورسٹی پر حملہ ہوا تو وہاں باچا خان کی برسی کے موقع پر ایک مشاعرہ بھی منعقد ہو رہا تھا جس میں سینکڑوں افراد شریک تھے۔

 علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کر دیا گیا جبکہ اس دوران علاقے کی فضائی نگرانی بھی کی گئی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کر دیا گیا جبکہ اس دوران علاقے کی فضائی نگرانی بھی کی گئی

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں چند ہفتے قبل ہی سکیورٹی اداروں کی جانب سے تعلیمی اور سرکاری اداروں اور دفاتر پر حملے کے خطرے کے بارے میں الرٹ جاری کیا گیا تھا۔اس الرٹ کے بعد گذشتہ سنیچر کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں پہلے چھاؤنی اور پھر شہر بھر میں درجنوں سکول بھی بند کروائےگئے تھے۔

خیال رہے کہ پشاور میں ہی دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے نتیجے میں طلبا اور عملے کے ارکان سمیت 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔