سخت سکیورٹی میں سانحۂ پشاور کی پہلی برسی
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے آرمی پبلک سکول میں طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں 141 افراد کی ہلاکت کے واقعے کی پہلی برسی بدھ کو سرکاری سطح پر منائی گئی۔
16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت طلبہ کی تھی اور برسی کی مرکزی تقریب بھی سکول میں منعقد کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 16 دسمبر کو ’قومی عزم تعلیم‘ کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دن ہمارے ماضی کا حصہ تو ہے ہی لیکن وہ اسے حال اور مستقبل کا حصہ بھی بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 16 دسمبر 2014 کا المیہ ہمارے دلوں کو چھلنی کر گیا لیکن ہمیں ایک کر گیا۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’تعلیم کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔ ہم تعلیم کو ترجیح بنائیں گے۔ ہم نئی نسل کو پرامن، ترقی کی راہ پر گامزن پاکستان دیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کا دل دکھ اور غم کے احساس سے بوجھل ہے۔ ’اس سانحے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور سب کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کیا کہ کیا انسانیت سے عاری ایسے درندے کسی نرمی کے مستحق ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے بھی پشاور آتے ان کے ذہن میں یہ خیال پختہ ہو رہا تھا کہ ’انسانوں کا مکالمہ ان سے ہو سکتا ہے جو انسانوں کی زبان سمجھتے ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پشاور کی زمین پر قدم رکھنے سے پہلے مجھے معصوم بچوں کے لہو نے ایک فیصلے پر پہنچا دیا تھا۔ ہم پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی پر ضرب لگائیں گے۔‘
انھوں نے قومی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا: ’جن کے تعاون سے آئینی ترمیم کی فوجی عدالتیں بنائیں اور نیشنل ایکشن پلان بنایا۔ اور اس پختہ عز کے ساتھ میدان میں اترے کہ اس سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کر کے دم لیں گے۔‘
وزیرِ اعظم نواز شریف نے طلبہ و طالبات کو مخاطب کر کے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید بچوں کا لہو بول رہا ہے۔ ضربِ عضب کی ہر کارروائی میں لہو بول رہا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے، ن کی پناہ گاہیں اور انفراسٹرکچر ٹوٹ چکا ہے۔ بہت جلد دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ملک کا گوشہ گوشہ پر امن ہو گا۔‘
وزیرِ اعظم نے آرمی پبلک یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا۔
ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے صوبے کے دیگر شہروں کے علاوہ ملک بھر میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
پشاور کے سکول میں جاری مرکزی تقریب میں پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے علاوہ اہم سیاسی شخصیات، غیر ملکی سفرا اور ہلاک شدگان کے لواحقین شریک ہوئے۔
پشاور میں منعقدہ تقریب میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم ، گلگت بلستان کے وزیرِ اعلیٰ اور دیگر مہمانوں نے شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے تمغے تقسیم کیے گئے جو ان کے ورثا نے وصول کیے۔
اس موقعے پر خیبر پختونخوا کی حکومت نے ضلع پشاور کے تمام تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ ملک کے دیگر صوبوں میں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس تقریب کے علاوہ پشاور کی آرکائیو لائبریری میں بھی بدھ کو سرکاری سطح پر برسی کی تقریب ہوئی۔
صوبائی حکومت نے آرکائیوز لائبریری کو آرمی پبلک سکول کے سانحے میں مرنے والوں کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ وہاں ایک یادگار بھی تعمیر کی جا رہی ہے جس پر سانحۂ پشاور میں ہلاک ہونے والے تمام بچوں کی تصویریں لگائی جائیں گی۔
اس کے علاوہ ملک کے تمام وفاقی سکولوں اور کالجوں میں بدھ کو یوم شہدائے آرمی پبلک سکول منایا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے پہلے ہی دارالحکومت اسلام آباد کے 122 سکولوں اور کالجوں کو ان طلبہ سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے جو 16 دسمبر کے حملے میں مارے گئے تھے۔
برسی کی تقریبات کے تناظر میں پشاور میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر میں دو ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
آرمی پبلک سکول پر حملے کی برسی کے تناظر میں ایک تقریب منگل کی شب برطانوی شہر برمنگھم میں بھی منعقد ہوئی جس میں وہاں زیرِ علاج طالبعلموں کے علاوہ نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے بھی شرکت کی۔
’پوپیز فار پیس ان پشاور‘ نامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ کا کہنا تھا کہ ضربِ عضب کے بعد اب پاکستان کو اب ضربِ قلم کی ضرورت ہے کیونکہ تعلیم ہی لوگوں کو شدت پسندی سے دور رکھنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ملالہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر دنیا دہشت گردی کے خاتمے کی نیت رکھتی ہے تو اسے دنیا بھر کے مسلمانوں کو دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ اس قسم کی الزام تراشی سے دہشت گردی تو نہیں رکتی بلکہ یہ مزید لوگوں کو ’ریڈیکل‘ خیالات کی جانب مائل کرنے کا سبب بنتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters







