’حملہ آوروں کے مددگاروں کو سزا دی جانی ضروری ہے‘

آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین منگل کو آرکائیوز لائبریری کے سبزہ زار میں پہنچے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین منگل کو آرکائیوز لائبریری کے سبزہ زار میں پہنچے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کو بدھ کو ایک سال پورا ہو رہا ہے اور برسی کی سرکاری تقریبات سے قبل بھی پشاور میں اس سلسلے میں مختلف تقاریب منعقد ہوئی ہیں۔

ایسا ہی ایک اجتماع منگل کو آرکائیوز لائبریری کے سبزہ زار میں منعقد ہوا جہاں سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین جمع ہوئے اور ذرائع ابلاغ سے بات چیت کی۔

<link type="page"><caption> سانحۂ پشاور کی برسی سرکاری سطح پر منانے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151204_aps_anniversary_official_zs" platform="highweb"/></link>

آرکائیوز لائبریری میں جمع ہونے والے افراد اپنے ساتھ بچوں کی یادوں کے علاوہ ان کے خون آلود جوتے، تصاویر، کتابیں، بیگ اور یونیفارم ساتھ لائے تھے۔

اس موقع پر حملے سے متاثرہ والدین کی تنظیم شہدا فورم کے جنرل سیکریٹری اجون ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ والدین حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں۔

اجون ایڈوکیٹ کے بیٹے اسنفندیار اس حملے میں مارے گئے تھے انھوں نے کہا کہ ’ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت ہو یا عسکری ادارہ یا بیوروکریسی اس میں چھپے وہ لوگ جو ایسے حملہ آوروں کی مدد کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور انھیں سزا دی جائے۔‘

والدین اپنے ساتھ بچوں کی یادوں کے علاوہ ان کی تصاویر، کتابیں، بیگ اور یونیفارم بھی ساتھ لائے تھے
،تصویر کا کیپشنوالدین اپنے ساتھ بچوں کی یادوں کے علاوہ ان کی تصاویر، کتابیں، بیگ اور یونیفارم بھی ساتھ لائے تھے

انھوں نے کہا کہ ’ایسے واقعات اندر کے لوگوں کی معاونت کے بغیر نہیں ہو سکتے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ والدین کو بتایا جائے کہ اب تک تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی ہے اور حملے میں ملوث افراد کو سر عام سزا دی جائے۔

چترال سے تعلق رکھنے والے نصراللہ کا بڑا بیٹا اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ ان کے گھر سے ہر روز ایک جنازہ نکلتا ہے ۔

ایک اور بچے ذوالقرنین شاہ کے والد سعید شاہ نے بتایا کہ ذوالقرنین ان کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا اور اب اس کے جانے کے بعد وہ خود’ کسی کے کام کے نہیں رہے‘۔

سعید شاہ پراپرٹی کا کام کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کی ہلاکت کے بعد سے ان کا دماغ کام نہیں کرتا اس لیے کاروبار چھوڑ دیا ہے اور اب وہ فارغ ہیں۔

حملے میں ہلاک ہونے والے صاحبان درانی کے والد ضابط درانی کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ بیٹے کی بہت یادیں ہیں اور اس پورے سال میں ان کی کوشش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو خواب تو کم سے کم دیکھ لیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

موقع پر موجود چھٹی جماعت کی طالبہ عفیفہ ملک نے بتایا کہ ان کا بڑا بھائی اسامہ طاہر اعوان اس دنیا میں اب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بھائی ہر لمحہ یاد آتے ہیں۔ صبح سکول جانے کے لیے تیار ہوتی ہوں تو بھائی یاد آتے ہیں۔ کبھی ہم شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر لڑتے تو کبھی گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے لڑتے تھے۔‘