باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد کے مناظر اور اس واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے۔
،تصویر کا کیپشنچارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ لاہور میں سول سوسائٹی نے احتجاج کیا۔
،تصویر کا کیپشناس واقعے کے خلاف وزیراعظم نواز شریف نے ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیونیورسٹی پر حملے میں 20 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے ایک پروفیسر اور متعدد طلبہ بھی شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکراچی میں بھی حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔فوج کے مطابق کارروائی کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور یہ چاروں دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صبح نو بجے کے قریب یونیورسٹی کے عقبی حصے سے احاطے میں داخل ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشن حملے کے نتیجے میں اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد یونیورسٹی کی عمارت میں محصور ہوگئی تھی
،تصویر کا کیپشنیونیورسٹی کے نوجوان طالب عملوں میں سے بہت سے ایسے تھے جنھوں نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی اور زخمی ہوگئے
،تصویر کا کیپشن چند ایسے تھے جو پشاور سکول کے بچوں کی مانند کلاسوں میں موجود میزوں کے نیچے یا پھر اپنے کمروں میں چھپ گئے۔
،تصویر کا کیپشنایک طالب علم نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلا فائر سکیورٹی اہلکاروں پر کیا اور اس وقت وہ خود بھی قریب ہی موجود تھے۔ہم نے کہا بھاگو یار یہ تو دہشت گرد آ گئے ہیں۔ پھر بس پتہ نہیں۔۔۔ہم نے کچھ نہیں دیکھا۔‘
،تصویر کا کیپشنیونیوسٹی میں موجود ایک دوسرے عینی شاہد نے بھی دہشت گردوں کو فائرنگ کرتے دیکھا۔ بقول ان کے وہ بہت ماہرانہ انداز میں فائرنگ کر رہے تھے۔
،تصویر کا کیپشنحملے کی صورت حال کے بارے میں بتاتے ہوئے ایک طالب کا کہنا تھا کہ ’میرا دوست اتنا خوفزدہ ہوا کہ وہ یونیورسٹی کی عمارت سے کود کیا۔ ہم نے دیکھا کہ دہشت گرد یہاں تکبیر کے نعرے لگا رہے تھے۔‘
،تصویر کا کیپشنچارسدہ سے پہلے پشاور میں ہی دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے نتیجے میں طلبا اور عملے کے ارکان سمیت 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔