’گوادر میں ہڑتال کی اجازت نہیں‘

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں سکیورٹی فورس کے انچارج بریگیڈیئر افتخار شہزاد بھٹی نے کہا ہے کہ گوادر میں ہر قسم کی ہڑتال کی کال مسترد کی جائے۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات سکیورٹی فورس کے انچارج نے بدھ کے روز انجمن تاجران، سرکاری ونجی بینک افسران سمیت نادرا اور ضلعی وصوبائی افسران کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
اجلاس میں ڈی آئی جی مکران ریجن جعفرخان اور قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والی ضلع کونسل کے چیئرمین بابو گلاب بھی موجود تھے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ انجمن تاجران اور نجی بینک ہڑتالوں میں اپنی دکانیں اور دفاتر ہر حال میں کھلے رکھیں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان فوج انھیں ہر ممکن تحفظ فراہم کرے گی بصورت دیگر قانون کی خلاف ورزی کرنے والی دکانیں اور بینک ہمیشہ کے لیے سیل کر دیے جائیں گے۔
گوادر سکیورٹی فورس کے انچارج نے کہا کہ پاک آرمی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہڑتالوں کے حوالے سے کسی بھی دھمکی آمیز فون اور براہ راست دھمکی سے پریشان ہونے کی بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ امن وامان کی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے پاکستان فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق ’اس سلسلے میں گوادر کے تمام داخلی وخارجی راستوں پر سکیورٹی الرٹ کردی گئی ہے جس کے باعث اب کوئی بھی دہشت گرد گوادر میں داخل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان فوج گوادر میں امن وامان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔‘
اعلامیے کے مطابق ’اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ ضلع گوادر میں کسی قسم کی ہڑتال نہیں کی جائے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ ہڑتال کی کال انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر سخت گیر موقف کی حامل بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد بلوچ نیشنل فرنٹ دی ہے۔
گوادر میں ہڑتال نہ کرنے کے حوالے سے سرکاری حکام کی جانب سے پہلی مرتبہ اس نوعیت کا بیان سامنے آیا ہے۔
گوادر میں پورٹ کا انتظام چینی کمپنی کے حوالے کرنے اور وہاں دیگر میگا پراجیکٹس کے پیش نظر گوادر کی سکیورٹی کا انتظام فوج کے حوالے کیا گیا ہے۔







