گودار میں جزائر لوگوں کی توجہ کا مرکز

گودار میں جزائر لوگوں کی توجہ کا مرکز

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منگل کو زلزلے کے بعد ساحلی پٹی میں مزید دو جزائر کے نمودار ہونے کی اطلاعات ملی ہیں اور متعلقہ سرکاری ادارے نے اس کی تصدیق کے لیے ماہرین کی ٹیم روانہ کر دی ہے۔ منگل کو جزیرہ نموادر ہونے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد اس کو دیکھنے کے لیے جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منگل کو زلزلے کے بعد ساحلی پٹی میں مزید دو جزائر کے نمودار ہونے کی اطلاعات ملی ہیں اور متعلقہ سرکاری ادارے نے اس کی تصدیق کے لیے ماہرین کی ٹیم روانہ کر دی ہے۔ منگل کو جزیرہ نموادر ہونے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد اس کو دیکھنے کے لیے جا رہی ہے۔
پاکستان میں سمندری علوم کے ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشِناگرافی کے ڈائریکٹر جنرل اے آر تبریز کے مطابق مکران کی ساحلی پٹی میں سمندر کی تہہ میں بہت سے ارضیاتی رخنے (جیولاجیک فالٹس) ہیں اور یہاں اگر زلزلہ آتا ہے تو جزائر نمودار ہو سکتے ہیں اور زلزلہ نہ بھی آئے اور سائزمِک سرگرمیاں ہوں تو اس صورت میں بھی جزائر نمودار ہو سکتے ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں سمندری علوم کے ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشِناگرافی کے ڈائریکٹر جنرل اے آر تبریز کے مطابق مکران کی ساحلی پٹی میں سمندر کی تہہ میں بہت سے ارضیاتی رخنے (جیولاجیک فالٹس) ہیں اور یہاں اگر زلزلہ آتا ہے تو جزائر نمودار ہو سکتے ہیں اور زلزلہ نہ بھی آئے اور سائزمِک سرگرمیاں ہوں تو اس صورت میں بھی جزائر نمودار ہو سکتے ہیں
ڈاکٹر تبریز نے جزائر کے نمودار ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ فالٹ لائن پر واقع کچھ حصے کمزور ہو جاتے ہیں اور یہاں موجود میتھین گیس کے ذخائر کو اوپر جانے کا راستہ مل جاتا ہے تاکہ پریشر کو خارج کیا جائے اور اس صورت میں جزائر نمودار ہو جاتے ہیں
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر تبریز نے جزائر کے نمودار ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ فالٹ لائن پر واقع کچھ حصے کمزور ہو جاتے ہیں اور یہاں موجود میتھین گیس کے ذخائر کو اوپر جانے کا راستہ مل جاتا ہے تاکہ پریشر کو خارج کیا جائے اور اس صورت میں جزائر نمودار ہو جاتے ہیں
انہوں نے کہا کہ ٹیکٹونک پلیٹس جہاں متحرک ہوتی ہیں، وہاں اس قسم کے جزائر کا نمودار ہونا معمول کا واقعہ ہے اور بارباڈوس اور بہامز سمیت دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں بھی اس قسم کے جزائر نمودار ہوئے ہیں جس کی ساحلی پٹی میں کاربن ہائیڈریٹ موجود ہیں
،تصویر کا کیپشنانہوں نے کہا کہ ٹیکٹونک پلیٹس جہاں متحرک ہوتی ہیں، وہاں اس قسم کے جزائر کا نمودار ہونا معمول کا واقعہ ہے اور بارباڈوس اور بہامز سمیت دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں بھی اس قسم کے جزائر نمودار ہوئے ہیں جس کی ساحلی پٹی میں کاربن ہائیڈریٹ موجود ہیں
ان جزائر کی زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر اے آر تبریز نے بتایا کہ 1999 اور 2010 کو معرضِ وجود میں آنے والے جزیرے چار سے چھ ماہ کے عرصے میں غائب ہو گئے تھے کیونکہ یہ جزائر دباؤ کے نتیجے میں اوپر آتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ دباؤ میں جب کمی آتی ہے اور جزیروں پر موجود مواد نیچے کی جانب سرکنا شروع ہو جاتا ہے
،تصویر کا کیپشنان جزائر کی زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر اے آر تبریز نے بتایا کہ 1999 اور 2010 کو معرضِ وجود میں آنے والے جزیرے چار سے چھ ماہ کے عرصے میں غائب ہو گئے تھے کیونکہ یہ جزائر دباؤ کے نتیجے میں اوپر آتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ دباؤ میں جب کمی آتی ہے اور جزیروں پر موجود مواد نیچے کی جانب سرکنا شروع ہو جاتا ہے
اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ سمندر کی لہروں کے مسلسل عمل کی وجہ سے ان پر موجود مواد نرم ہوتا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد بظاہر ٹھوس نظر آنے والا جزیرہ گھلتا چلا جاتا ہے اور رفتہ رفتہ سمندر کے اندر غائب ہو جاتا ہے
،تصویر کا کیپشناس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ سمندر کی لہروں کے مسلسل عمل کی وجہ سے ان پر موجود مواد نرم ہوتا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد بظاہر ٹھوس نظر آنے والا جزیرہ گھلتا چلا جاتا ہے اور رفتہ رفتہ سمندر کے اندر غائب ہو جاتا ہے
اس سوال پر اے آر تبریز نے بتایا کہ یقیناً اگر اس طرح کے جزائز متواتر نمودار ہوتے ہیں تو اس سے بحری سرگرمیوں اور ماہی گیروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن ابھی تک کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ جزائر کے نموادر ہونے کے واقعات شاذ و نادر ہیں، جیسا کہ گذشتہ پندرہ سال میں منگل کو نظر آنے والا یہ تیسرا جزیرہ ہے
،تصویر کا کیپشناس سوال پر اے آر تبریز نے بتایا کہ یقیناً اگر اس طرح کے جزائز متواتر نمودار ہوتے ہیں تو اس سے بحری سرگرمیوں اور ماہی گیروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن ابھی تک کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ جزائر کے نموادر ہونے کے واقعات شاذ و نادر ہیں، جیسا کہ گذشتہ پندرہ سال میں منگل کو نظر آنے والا یہ تیسرا جزیرہ ہے